اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ علاقوں کی سمت کیے گئے حوثی بیلسٹک میزائل حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان 26 اکتوبر کے حملوں کی مذمت کر چکا ہے اور مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب کے ساتھ اپنے عزم پر قائم ہے۔

ترجمان نے ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کے مقدس ترین مقامات اور شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بیرونی جارحیت اور خطرات کے مقابلے میں حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی رکھتا ہے۔ یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی اور بحیرہ احمر و آبنائے باب المندب سے متعلق سکیورٹی خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

دفتر خارجہ نے حالیہ علاقائی سفارتی رابطوں کا بھی حوالہ دیا۔ 23 اکتوبر کو استنبول میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے آر فور اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، فلسطین، یمن، امریکا، اسرائیل اور ایران سے متعلق تنازع اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق چاروں ممالک نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت دہرائی۔

یمن کے معاملے پر ان وزرائے خارجہ نے سعودی عرب اور تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی حملوں کی مذمت کی اور یمنی حکومت و سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی۔ ساتھ ہی انہوں نے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سیاسی رابطے جاری رہنے چاہییں۔

دفتر خارجہ کے مطابق آر فور وزرائے خارجہ نے اسی دورے میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کی، جہاں مشرق وسطیٰ، غزہ، یمن اور بحری سلامتی کے موضوعات زیر بحث آئے۔ ان رابطوں میں تشدد میں کمی، مذاکرات اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

پاکستان کا تازہ بیان کسی نئے فوجی اقدام کا اعلان نہیں بلکہ حوثی حملوں کے خلاف سرکاری سفارتی مؤقف اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی و سیاسی یکجہتی کی توثیق ہے۔ خطے میں جاری تنازعات کے باعث پاکستان ایک جانب سعودی سلامتی کی حمایت کر رہا ہے اور دوسری جانب وسیع تر کشیدگی کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ضروری قرار دے رہا ہے۔