اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود جلد سعودی دارالحکومت ریاض میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعہ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
نعمان محمود کو 23 ستمبر کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام اراکین پر حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے، جس کا مقصد اجتماعی دفاع اور بازدارندگی کے لیے سہ فریقی فریم ورک قائم کرنا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اتحاد کا اجلاس کب بلایا جائے گا، اس کا فیصلہ تینوں رکن ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔ ترکی کی پارلیمان نے جمعرات کو مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق بل منظور کیا، جس کے بعد سہ فریقی سکیورٹی انتظام کے قانونی نفاذ کی راہ مزید ہموار ہوئی۔ پاکستان اور سعودی عرب اپنی اپنی آئینی اور قانونی کارروائیاں پہلے مکمل کر چکے ہیں۔
اتحاد نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث خاص توجہ حاصل کی ہے۔ سعودی عرب کو یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے حملوں کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان کی فوجی قیادت پہلے واضح کر چکی ہے کہ اتحاد کی نوعیت دفاعی ہے اور اس کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس کے علاوہ دوطرفہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔
دفتر خارجہ کی بریفنگ میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تنازع میں بات چیت کی سہولت کے لیے کوششیں جاری رکھے گا اور قطر سمیت دیگر ممالک بھی سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے علاقائی امن کے لیے جنگ کے بجائے سیاسی مکالمے اور سفارت کاری کو بنیادی راستہ قرار دیا۔
سیکریٹری جنرل کا ریاض میں ذمہ داریاں سنبھالنا اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے عملی آغاز کی اہم پیش رفت ہوگی۔ تاہم دفتر خارجہ نے سیکریٹری جنرل کے باقاعدہ چارج لینے کی حتمی تاریخ یا اتحاد کے پہلے اجلاس کا شیڈول جاری نہیں کیا۔ آئندہ مرحلے میں تینوں ممالک کی مشترکہ مشاورت سے تنظیمی طریقہ کار اور اجلاسوں کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
