اقوام متحدہ: سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی ایک صدارتی دستاویز منظور کر لی ہے جس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ مسلح تصادم شروع ہونے کے بعد بھی سفارتی رابطے منقطع نہ کیے جائیں اور جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور پائیدار سیاسی تصفیے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دستاویز کا عنوان فعال مخاصمت کے دوران سفارت کاری کا کردار ہے اور اسے جمعرات کو کونسل نے اختیار کیا۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران سفارتی سرگرمی شہریوں کے تحفظ، تشدد کو محدود رکھنے، تنازع پھیلنے سے روکنے اور انسانی امداد کی رسائی آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کونسل نے ثالثی، اچھے دفاتر اور متحارب فریقوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطوں جیسے ذرائع استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ فوجی کارروائی جاری ہونے کے باوجود مذاکرات کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مخاصمت شروع ہونے کے بعد سفارت کاری کی ضرورت کم نہیں بلکہ زیادہ ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق رابطے کے کھلے ذرائع اور مسلسل مکالمہ محاذ آرائی سے کشیدگی میں کمی اور بالآخر پرامن تصفیے تک پہنچنے کے لیے پل کا کام کر سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ سفارتی کوششوں کے عملی اہداف میں لڑائی رکوانا، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی یقینی بنانا، شہریوں کا تحفظ اور کسی تنازع کے علاقائی یا بین الاقوامی سطح پر پھیلنے کے خطرے کو کم کرنا شامل ہے۔ دستاویز میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ صرف جنگ بندی حاصل کرنا کافی نہیں؛ اس کے بعد سیاسی اور سفارتی عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ دیرپا حل سامنے آ سکے۔
یہ پاکستانی اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کے تسلسل میں سامنے آیا ہے، جو جولائی 2025 میں پاکستان کی کونسل صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت کی توثیق کرتی تھی۔ تازہ دستاویز خاص طور پر اس مرحلے پر توجہ دیتی ہے جب مسلح تصادم بالفعل شروع ہو چکا ہو اور فریقوں کے درمیان رابطے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جائے۔
کونسل نے علاقائی تنظیموں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، خصوصی نمائندوں اور ثالثوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور سفارتی اقدامات کو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل قراردادوں کے مطابق رکھنے پر زور دیا۔ یہ صدارتی دستاویز کسی مخصوص جاری جنگ کا حتمی تصفیہ نہیں، بلکہ فعال تنازعات کے دوران سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے ایک مشترکہ سیاسی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
