نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فعال جنگی حالات کے دوران سفارت کاری کے کردار سے متعلق پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے صدارتی بیان کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق بیان اقوام متحدہ کے منشور کے باب ششم کے تحت تنازعات کے پرامن حل سے وابستگی کی توثیق کرتا ہے اور اس اصول پر زور دیتا ہے کہ مسلح تصادم شروع ہو جانے کے بعد بھی سفارتی رابطے ختم نہیں ہونے چاہئیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق صدارتی بیان میں ثالثی، خیرسگالی کی کوششوں اور فریقین کے درمیان رابطے کے ذرائع برقرار رکھنے کو جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے اور پائیدار سیاسی تصفیے کی کوششوں کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ سفارت کاری کو صرف جنگ سے پہلے کے مرحلے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تنازع کے پورے دورانیے میں اسے فعال رکھا جائے۔
پاکستانی بیان سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) پر بھی استوار ہے، جو جولائی 2025 میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی دستاویز فعال مخاصمت کے مرحلے پر زیادہ مرکوز توجہ دیتی ہے اور مختلف تنازعات سے اخذ کیے گئے سفارتی اصولوں اور تجربات کو ایک موضوعاتی فریم ورک میں جمع کرتی ہے۔
سلامتی کونسل کا صدارتی بیان قرارداد سے قانونی نوعیت میں مختلف ہوتا ہے۔ یہ کونسل کے ارکان کے متفقہ سیاسی مؤقف کا رسمی اظہار ہے اور اس کی منظوری کے لیے اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے، تاہم اسے سلامتی کونسل کی پابند قانونی قرارداد کے مساوی نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے تازہ اقدام کی اہمیت بنیادی طور پر سیاسی اور سفارتی حوالہ فراہم کرنے میں ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ بیان سلامتی کونسل کے لیے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور پرامن و پائیدار سیاسی حل آگے بڑھانے میں ایک اجتماعی سیاسی حوالہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان 2025-26 کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے اور حکومت نے اس اقدام کو کثیرالجہتی نظام، مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے اپنی پالیسی سے منسلک کیا ہے۔
موجودہ عالمی ماحول میں متعدد تنازعات اور جنگیں بیک وقت جاری ہونے کے باعث اس بیان کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ سلامتی کونسل اور متعلقہ فریق مخصوص بحرانوں میں سفارتی ذرائع، ثالثی اور رابطے کو کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔ بیان بذات خود کسی جاری جنگ کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ نہیں، بلکہ ایسی کوششوں کے لیے اصولی اور سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کی ایک متفقہ دستاویز ہے۔
