پاکستان اور میانمار نے دوطرفہ سیاسی و اقتصادی روابط بڑھانے اور علاقائی فورمز پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور میانمار کے وزیر خارجہ تھان سوے کے درمیان ملاقات میں باہمی تعلقات، تجارت، عوامی روابط اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاقائی تعاون سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

ملاقات کی نمایاں پیش رفت میانمار کی جانب سے پاکستان کی اس کوشش کی حمایت تھی جس کے تحت اسلام آباد جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایسا درجہ پاکستان کو منتخب شعبوں میں آسیان کے ساتھ زیادہ منظم ادارہ جاتی تعاون کا موقع دے سکتا ہے، تاہم اس کے حصول کے لیے تنظیم کے اپنے طریقہ کار اور رکن ممالک کی منظوری ضروری ہوگی۔ میانمار کی حمایت اس عمل میں ایک سفارتی پیش رفت ہے، حتمی منظوری نہیں۔

دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور میانمار کے موجودہ تعلقات کا جائزہ لیا اور تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ جغرافیائی طور پر پاکستان جنوبی ایشیا اور آسیان خطے کے درمیان اقتصادی رابطوں میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ میانمار جنوب مشرقی ایشیا کا رکن ملک ہے۔ اس تناظر میں تجارتی رابطوں، کاروباری وفود اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پر بات چیت اہم سمجھی جاتی ہے۔

ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان عمومی طور پر آسیان کے ساتھ اپنے سیاسی اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مختلف رکن ممالک کے ساتھ دوطرفہ سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ میانمار کی موجودہ حمایت اسی سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔

فریقین نے رابطے جاری رکھنے اور عملی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے نتیجے میں کسی بڑے تجارتی معاہدے یا مالی پیکیج کے فوری دستخط کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے پیش رفت کو بنیادی طور پر سفارتی حمایت اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ آئندہ مرحلے میں آسیان کے متعلقہ ادارہ جاتی عمل اور رکن ممالک کی اجتماعی رائے پاکستان کی درخواست کی سمت متعین کرے گی۔