لندن: بینک آف انگلینڈ نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی توانائی کی بلند قیمتوں کے تناظر میں اپنی بنیادی شرح سود 0.25 فیصد پوائنٹ بڑھا کر 4 فیصد کردی ہے۔ یہ برطانوی مرکزی بینک کی جانب سے اگست 2023 کے بعد شرح سود میں پہلا اضافہ ہے۔ بینک نے دسمبر سے قرض لینے کی بنیادی لاگت 3.75 فیصد پر برقرار رکھی ہوئی تھی، تاہم تازہ فیصلے میں افراط زر کے نئے دباؤ کو شرح بڑھانے کی وجہ قرار دیا گیا۔

بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کا اتنا دباؤ پیدا ہو چکا ہے کہ شرح سود بڑھانا ضروری سمجھا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ اضافہ لازماً طویل اور مسلسل شرحِ سود بڑھانے کے سلسلے کا آغاز نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کا تنازع برقرار رہنے کی صورت میں مزید اضافے کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں توانائی کی رسد میں رکاوٹ اور روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں نے عالمی سطح پر ڈیزل اور دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ یہ عوامل برطانیہ میں بھی مہنگائی کی رفتار پر اثرانداز ہوئے ہیں۔ ستمبر میں برطانیہ کی سالانہ افراط زر کی شرح 3.5 فیصد تک پہنچ گئی، جو بینک آف انگلینڈ کے 2 فیصد کے ہدف سے خاصی بلند ہے۔ مرکزی بینک کے تازہ مرکزی تخمینے کے مطابق برطانوی مہنگائی اگلے سال کی دوسری سہ ماہی میں 4.9 فیصد تک بلند ہو سکتی ہے۔

شرح سود بڑھنے سے رہن، کاروباری قرضوں اور دیگر کریڈٹ مصنوعات کی لاگت میں اضافے کا امکان ہوتا ہے، اگرچہ اس کا اثر مختلف قرضوں کی شرائط اور مقررہ یا متغیر شرح کے حساب سے مختلف ہوگا۔ دوسری جانب مرکزی بینک نے معاشی نمو کے اندازے بہتر کیے ہیں۔ اب 2026 میں برطانیہ کی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 1.6 فیصد اور 2027 میں 1.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ جولائی میں دونوں برسوں کے لیے 1.1 فیصد کی پیش گوئی تھی۔

توانائی کے اخراجات برطانوی گھرانوں کے لیے بھی اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2027 کے آغاز سے لاکھوں صارفین کے توانائی بل بڑھنے کا خدشہ ہے، اگرچہ حکومت نے اپنے حالیہ بجٹ میں کچھ معاونت کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی بینک کے فیصلے سے واضح ہے کہ پالیسی ساز اس وقت معاشی نمو کو سہارا دینے اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے درمیان مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بینک آف انگلینڈ نے مستقبل کے فیصلوں کو آنے والے اعداد و شمار اور عالمی حالات سے مشروط رکھا ہے۔ اس لیے 4 فیصد کی نئی شرح کو کسی پہلے سے طے شدہ طویل سلسلے کا حصہ قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ آئندہ پالیسی کا انحصار مہنگائی، توانائی قیمتوں، معاشی سرگرمی اور عالمی تنازعات کے اثرات پر ہوگا۔