یورپ کے مختلف ممالک میں کم از کم 27 مسافر پروازوں کو بم کی جھوٹی دھمکیاں ملنے کے بعد فضائی سفر میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا ہے۔ رائٹرز کے مطابق 5 نومبر کو سامنے آنے والی یہ دھمکیاں اسی ہفتے کی دوسری بڑی لہر ہیں اور ان سے آئرلینڈ سے بلغاریہ تک مختلف فضائی راستے متاثر ہوئے۔ متعدد پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑا گیا، بعض نے ہنگامی لینڈنگ کی، طیاروں کی سکیورٹی تلاشی لی گئی اور کچھ واقعات میں جنگی طیاروں نے مسافر جہازوں کو اسکارٹ کیا۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ ممالک میں فرانس، بلغاریہ، اسپین، پولینڈ، ڈنمارک، اٹلی، چیک جمہوریہ اور آسٹریا شامل تھے۔ ڈبلن سے روم جانے والی ایک ایئربس A320 پرواز کو بم کی اطلاع کے بعد فرانس کی ایک فوجی فضائی تنصیب کی جانب موڑنا پڑا۔ سکیورٹی اداروں نے ہر واقعے کو الگ الگ جانچا اور دستیاب معلومات کے مطابق دھمکیوں میں کسی حقیقی دھماکا خیز مواد کی تصدیق نہیں ہوئی، اسی لیے انہیں جھوٹی یا hoax دھمکیاں قرار دیا جا رہا ہے۔

کسی حکومت نے اس نئی لہر کی ذمہ داری باضابطہ طور پر کسی ملک، گروہ یا فرد پر عائد نہیں کی۔ یورپی سکیورٹی حلقوں میں روس سے منسوب مبینہ ہائبرڈ کارروائیوں کے خدشات پہلے سے زیر بحث ہیں، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو یوکرین کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ان تازہ بم دھمکیوں کے بارے میں براہ راست ذمہ داری ثابت نہیں ہوئی۔ روس اور ایران ماضی میں اپنے خلاف لگائے گئے اسی نوعیت کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

ہوابازی کے سکیورٹی ماہرین کے مطابق بار بار آنے والی جھوٹی دھمکیاں صرف پروازوں میں خلل ڈالنے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایئرلائنز، ہوائی اڈوں اور ریاستی اداروں کے ردعمل، وسائل اور طریقہ کار کو بھی آزما سکتی ہیں۔ تاہم اس امکان کو تجزیاتی رائے سمجھا جا رہا ہے، کسی تصدیق شدہ مقصد کے طور پر نہیں۔ ایئرلائنز عام طور پر ہر دھمکی کی ساکھ اور مخصوص معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں کہ پرواز جاری رکھی جائے، راستہ بدلا جائے یا فوری لینڈنگ کرائی جائے۔

یہ واقعات یورپ میں ضروری خدمات کے خلاف حالیہ سائبر حملوں کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ اسی ہفتے کے آغاز میں بھی کم از کم سات پروازوں اور ایک کروز شپ کو جھوٹی دھمکیاں ملنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ تازہ لہر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کم لاگت سے دی جانے والی جھوٹی سکیورٹی دھمکیاں بھی فضائی کمپنیوں، مسافروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بڑے عملی اور مالی اثرات پیدا کر سکتی ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داری سے متعلق کسی نتیجے کے لیے سرکاری شواہد کا انتظار ضروری ہوگا۔