پیرس: فرانس میں اجرتوں، بڑھتی لاگتِ زندگی، عوامی خدمات اور تعلیمی حالات کے خلاف ملک گیر ہڑتال اور مظاہرے ہوئے، جن کی مجموعی فضا بڑی حد تک پُرامن رہی تاہم پیرس اور لیون میں بعض مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ڈان میں شائع رائٹرز رپورٹ کے مطابق سرکاری شعبے کے بعض کارکنوں کے ساتھ طلبہ اور دیگر گروہوں نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔
فرانسیسی وزارت داخلہ نے بتایا کہ پیرس کے مرکزی مارچ کو شمار کیے بغیر ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔ پیرس میں مارچ کے آغاز پر ماحول نسبتاً پُرامن تھا، مگر بعد میں جلوس کے اگلے حصے میں کچھ افراد کی پولیس سے جھڑپ ہوئی اور پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ لیون میں بھی فسادات سے نمٹنے والی پولیس اور ایک گروہ کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی۔
ہڑتال کے باعث ایفل ٹاور بند رہا، جبکہ توانائی کے بعض کارکنوں اور اساتذہ نے بھی کام چھوڑا۔ وزارت تعلیم کے مطابق 15 فیصد سے کچھ زیادہ تدریسی عملے نے ہڑتال میں شرکت کی۔ تاہم نقل و حمل کے نظام میں کسی بڑے پیمانے کی رکاوٹ کی اطلاع نہیں دی گئی۔
جنوب مغربی فرانس میں تولوز کے قریب ایک ہائی اسکول میں آتش بازی کا سامان پھینکے جانے سے آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا، جس کے بعد طلبہ اور عملے کو عمارت سے نکالا گیا۔ حکام نے اس واقعے کی مذمت کی۔ حکومت نے ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب فرانس آئندہ صدارتی انتخاب سے چند ماہ دور ہے اور صدر ایمانوئل میکرون دوسری مدت پوری کر رہے ہیں۔ مظاہروں میں مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ احتجاج کے مطالبات اور سیاسی بیانات الگ معاملات ہیں؛ مظاہروں میں شرکت کو کسی ایک جماعت یا امیدوار کی حمایت کے طور پر عمومی طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ حکام نے کہا ہے کہ پولیس کی کسی ممکنہ زیادتی کی شکایت کی تحقیقات کی جائیں گی۔
