واشنگٹن: امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے افغان تارکین وطن کو افغانستان واپس بھیجنے کے منصوبے پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے جنوبی ضلع کی امریکی ڈسٹرکٹ جج ویلری کیپرونی نے حکم دیا کہ رواں ہفتے کسی افغان شہری کو افغانستان یا پاکستان نہیں بھیجا جا سکتا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے ایک عہدیدار نے عدالت کو بتایا کہ اس ہفتے افغان شہریوں کو افغانستان یا پاکستان بھیجنے کے لیے کوئی طے شدہ یا تصدیق شدہ چارٹر یا کمرشل پرواز موجود نہیں۔ امریکی میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ 150 سے زیادہ افغانوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے افراد میں ان افغان شہریوں کے رشتہ دار بھی شامل تھے جنہوں نے 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ کنٹرول سے پہلے امریکی فوج کے ساتھ کام کیا تھا۔ افغان اتحادیوں کی مدد کرنے والی تنظیم افغان ایویک نے عدالتی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وکلا، سابق فوجیوں، ارکان کانگریس اور دیگر افراد کی کوششوں نے مجوزہ پرواز رکوانے میں کردار ادا کیا۔
افغانستان کی طالبان حکومت نے بھی ممکنہ ملک بدری کے منصوبے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ طالبان حکام عمومی معافی کا اعلان کرتے اور سابق مخالفین کی محفوظ واپسی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، تاہم اقوام متحدہ نے ماضی میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، حراستوں اور دیگر زیادتیوں سے متعلق رپورٹس ریکارڈ کی ہیں۔ اسی پس منظر میں حقوق کی تنظیمیں بعض واپس بھیجے جانے والے افراد کے تحفظ کے بارے میں خدشات ظاہر کرتی ہیں۔
عدالتی حکم مستقل امیگریشن حیثیت دینے یا ملک بدری کے تمام مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ نہیں ہے۔ موجودہ حکم فوری منتقلی کو روکتا ہے اور متعلقہ قانونی کارروائی کو جاری رہنے دیتا ہے۔ پاکستان کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ رپورٹ شدہ منصوبے میں اسے ممکنہ ٹرانزٹ مقام کے طور پر بیان کیا گیا تھا، تاہم عدالت کے سامنے امریکی حکام نے اس ہفتے ایسی پرواز طے ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
