یورپ کے مختلف ممالک میں جمعرات کو متعدد مسافر پروازوں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے بعد فضائی کمپنیوں اور سکیورٹی اداروں نے ہنگامی اقدامات کیے، کئی طیاروں کا رخ تبدیل کیا گیا اور بعض پروازوں کو نگرانی میں لینڈ کرایا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ رواں ہفتے اس نوعیت کی دوسری بڑی لہر تھی، تاہم ابتدائی جانچ میں کسی دھمکی کے حقیقی ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
آئرش فضائی کمپنی ایئر لنگس کی ڈبلن سے روم جانے والی پرواز EI402 کو احتیاطی تدبیر کے طور پر فرانس کے ایوریو ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں طیارہ بحفاظت اتر گیا۔ بلغاریہ کے حکام نے بھی تین طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع دی۔ ان میں کوپن ہیگن اور میڈرڈ سے آنے والے طیارے صوفیہ میں اترے، جبکہ لندن سے آنے والی ایک پرواز کو پلوودیو کی جانب موڑا گیا۔
چیک پولیس کے مطابق پراگ جانے والے چار طیاروں کو بھی بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں اور حکام نے ان کی لینڈنگ کے لیے حفاظتی انتظامات کیے، اگرچہ پولیس نے ان دھمکیوں کی ساکھ کو کم قرار دیا۔ اٹلی کی فضائیہ نے ہیلسنکی سے روم آنے والی فن ایئر کی ایک پرواز کو محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچانے کے لیے فضائی نگرانی فراہم کی۔ فن ایئر کی ایک دوسری پرواز، جسے جیٹ ٹائم چلا رہی تھی، دھمکی ملنے کے بعد ویانا میں معمول کے مطابق اتری۔
پولینڈ کی LOT ایئرلائن نے بتایا کہ وارسا سے برسلز جانے والی ایک پرواز سکیورٹی وارننگ کے باوجود بحفاظت منزل پر پہنچی اور کوئی مشتبہ شے نہیں ملی۔ پیرس جانے والی ایک دوسری LOT پرواز کو ٹیک آف سے قبل روک دیا گیا اور مسافروں کو احتیاطاً دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق میلان سے وارسا جانے والی وز ایئر کی پرواز کو بھی ویانا میں اتارا گیا۔
رپورٹ کے مطابق منگل کو بھی کم از کم سات پروازوں اور ایک کروز جہاز کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں، مگر کسی مقام سے دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ یورپی حکام نے ابھی ان تازہ دھمکیوں کی ذمہ داری کسی ملک یا گروہ پر عائد نہیں کی۔ بعض یورپی عہدیدار حالیہ عرصے میں مختلف خلل انگیز واقعات کو مبینہ ہائبرڈ کارروائیوں سے جوڑتے رہے ہیں، لیکن روس اور ایران ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ تحقیقات جاری ہونے کے باعث دھمکیوں کے پس منظر یا ذمہ داروں کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
