اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق حملوں سے پائپ لائن کو نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک بیان میں کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے ان حملوں کو علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق سعودی حکام نے کہا کہ حملوں کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ سعودی وزارت توانائی سے منسوب معلومات کے مطابق ڈرون عراق کی سمت سے آئے تھے؛ یہ نسبت سعودی حکام کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان نے حملہ آوروں کی الگ سے شناخت نہیں کی بلکہ بنیادی توجہ حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی پر رکھی۔
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی حصے میں ابقیق کے قریب تیل کی تنصیبات کو بحیرہ احمر کے ساحل پر ینبع سے ملاتی ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران اس راستے کی اہمیت بڑھی ہے کیونکہ یہ خلیج سے باہر برآمدی راستہ فراہم کرتا ہے۔ سعودی حکام نے حملوں کے بعد تنصیبات اور سپلائی کی حفاظت کے لیے احتیاطی اقدامات کیے۔
پاکستان کا ردعمل ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے، تجارتی راستوں اور شہری تنصیبات کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔




