پاکستان کے پہلے سفیر برائے آرمینیا شفقات علی خان نے یریوان میں آرمینیا کے صدر واہان خاچاتوریان کو اپنی سفارتی اسناد پیش کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد تعلقات کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ تقریب آرمینیا کے صدارتی محل میں ہوئی، جہاں آرمینیائی صدر نے پاکستانی سفیر کا خیرمقدم کیا اور ان کی تعیناتی پر مبارک باد دی۔

ملاقات کے دوران صدر خاچاتوریان نے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ شفقات علی خان نے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں اور کہا کہ پاکستان آرمینیا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ دونوں اطراف نے تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، عوامی روابط اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی سفیر نے آرمینیا کے وزیر خارجہ و بین الاقوامی تجارت ارارات مرزویان سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دوطرفہ ایجنڈے، تعاون کے نئے راستوں اور علاقائی و بین الاقوامی صورت حال پر بات ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے آرمینیا کے نائب وزیر خارجہ مناتساکان سفاریان کو اپنی سفارتی اسناد کی نقل پیش کی۔ آرمینیائی حکام نے پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو دونوں ملکوں کی قیادت کا اہم پالیسی فیصلہ قرار دیا۔

پاکستان اور آرمینیا نے اگست 2025 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس سے پہلے پاکستان اقوام متحدہ کا وہ واحد رکن ملک تھا جس نے 1991 میں آرمینیا کی آزادی کے بعد طویل عرصے تک اس کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا تھا، جس کی بڑی وجہ ناگورنو کاراباخ تنازع میں آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی تھی۔ سفارتی تعلقات کے قیام اور اب پہلے پاکستانی سفیر کی اسناد پیش کیے جانے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے سفارتی مرحلے کا آغاز ہوا ہے۔

شفقات علی خان متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں اور آرمینیا کے لیے غیر مقیم سفیر مقرر کیے گئے ہیں۔ یریوان میں ان کی حالیہ ملاقاتوں کا مرکزی نکتہ یہ رہا کہ نئے سفارتی تعلقات کو محض رسمی رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کے ٹھوس مواقع میں تبدیل کیا جائے۔