اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کو نشانہ بنانا شہری انفراسٹرکچر پر حملہ ہے اور پاکستان ایسے اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور کسی خودمختار ریاست کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی رکھتا ہے اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ پاکستانی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا صرف سعودی عرب کی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر علاقائی اور عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے احتیاطی اقدام کے طور پر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کیا۔ یہ پائپ لائن تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے اور خلیج کے مشرقی حصے سے بحیرۂ احمر تک خام تیل منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے ترسیل میں رکاوٹوں کے تناظر میں اس راستے کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی، کیونکہ یہ عالمی منڈی کے لیے متبادل سپلائی روٹ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سعودی اور عراقی حکام نے کہا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرونز کا تعلق عراقی حدود سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم واقعے کی ذمہ داری اور عملی تفصیلات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ عراق میں بھی اس معاملے پر انتظامی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان نکات کو متعلقہ حکام کے بیانات کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے اور پاکستان نے اپنے سرکاری ردعمل میں بنیادی طور پر حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کی خودمختاری کی حمایت پر زور دیا ہے۔

توانائی تنصیبات پر ایسے حملوں سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پہلے ہی بحری اور زمینی توانائی رسد کے راستوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ درآمدی تیل کی قیمت میں اضافہ مقامی ایندھن کی لاگت، درآمدی بل اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد کا تازہ بیان پاکستان اور سعودی عرب کے قریبی سیاسی اور دفاعی تعلقات کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے واقعات کو معمول نہیں بنایا جا سکتا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینا ضروری ہے۔