پاکستان کی جننگ فیکٹریوں میں 15 اگست 2026 تک کپاس کی آمد 11 لاکھ 13 ہزار 513 گانٹھوں تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت کی 8 لاکھ 87 ہزار 401 گانٹھوں سے 25.48 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن سے منسوب تازہ رپورٹ میں جاری کیے گئے ہیں اور رواں سیزن کے ابتدائی مرحلے میں خام کپاس کی فیکٹریوں تک پہنچنے کی رفتار دکھاتے ہیں۔

کل آمد میں سے 10 لاکھ 19 ہزار 25 گانٹھیں پریس کی جاچکی تھیں۔ فروخت ہونے والی گانٹھوں کی تعداد 9 لاکھ 50 ہزار 817 رہی، جن میں ٹیکسٹائل ملوں نے 9 لاکھ 37 ہزار 817 اور برآمد کنندگان یا تاجروں نے 13 ہزار گانٹھیں خریدیں۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے زمرے میں اس مدت کے دوران کسی خریداری کی اطلاع نہیں دی گئی۔

صوبائی اعداد میں واضح فرق سامنے آیا۔ پنجاب کی فیکٹریوں میں 3 لاکھ 79 ہزار 211 گانٹھیں پہنچیں، جو گزشتہ سال کی 3 لاکھ 69 ہزار 550 گانٹھوں سے 2.61 فیصد زیادہ ہیں۔ پنجاب میں 3 لاکھ 60 ہزار 178 گانٹھیں پریس ہوئیں اور 3 لاکھ 36 ہزار 602 فروخت ہوئیں۔ ان میں 3 لاکھ 34 ہزار 402 گانٹھیں ٹیکسٹائل ملوں اور 2,200 برآمد کنندگان یا تاجروں نے خریدیں۔

سندھ، جس کے مجموعی اعداد میں بلوچستان کی الگ بتائی گئی مقدار بھی شامل ہے، میں آمد 7 لاکھ 34 ہزار 302 گانٹھیں رہی۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 5 لاکھ 17 ہزار 851 تھی، اس طرح سالانہ اضافہ 41.80 فیصد بنتا ہے۔ سندھ میں 6 لاکھ 58 ہزار 847 گانٹھیں پریس اور 6 لاکھ 14 ہزار 215 فروخت ہوئیں۔ ٹیکسٹائل ملوں کی خریداری 6 لاکھ 3 ہزار 415 اور برآمد کنندگان یا تاجروں کی خریداری 10 ہزار 800 گانٹھیں رہی۔

بلوچستان سے 43 ہزار 840 گانٹھوں کی آمد الگ طور پر بتائی گئی، جو گزشتہ سال کی 30 ہزار 600 گانٹھوں سے 43.27 فیصد زیادہ ہے، مگر یہ مقدار سندھ کے مجموعی عدد میں شامل ہے۔ اس لیے بلوچستان کی تعداد کو قومی مجموعے میں دوبارہ شامل نہیں کرنا چاہیے۔ رپورٹ میں ملک بھر میں 268 جننگ فیکٹریاں فعال بتائی گئیں، جن میں 112 پنجاب اور 156 سندھ میں تھیں۔

ضلع وار سنگھڑ 5 لاکھ 50 ہزار 745 گانٹھوں کے ساتھ سب سے آگے رہا، جہاں سالانہ اضافہ 40.98 فیصد تھا۔ ڈیرہ غازی خان میں 78 ہزار 821 اور وہاڑی میں 67 ہزار 899 گانٹھیں ریکارڈ ہوئیں۔ وہاڑی کی آمد گزشتہ سال سے 8.22 فیصد کم رہی۔ خانیوال میں 49 ہزار 149 اور حیدرآباد میں 44 ہزار ایک گانٹھیں پہنچیں، اور دونوں اضلاع میں سالانہ کمی درج ہوئی۔

کچھ درمیانے اضلاع میں تیز اضافہ بھی رپورٹ ہوا۔ لیہ میں 35 ہزار 299، میرپور خاص اور تھرپارکر میں 32 ہزار 938 اور بہاولپور میں 32 ہزار 352 گانٹھیں پہنچیں۔ دوسری طرف راجن پور میں 11 ہزار 140 گانٹھیں آئیں، جو 42.65 فیصد کم تھیں، جبکہ مظفرگڑھ میں گزشتہ سال کی 7,002 گانٹھوں کے مقابلے میں اس مرتبہ اس کٹ آف تاریخ تک کوئی آمد درج نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں غیر فروخت شدہ مجموعی ذخیرہ ایک لاکھ 62 ہزار 696 گانٹھیں تھا، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 80 ہزار 913 سے زیادہ ہے۔ یہ عدد مجموعی آمد کے ساتھ ذخیرے میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے، لیکن صرف آمد کی رفتار سے حتمی پیداوار، فصل کا معیار، کسان کی آمدن یا سال کے اختتامی برآمدی نتیجے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ سیزن کے بعد کے اعداد، قیمتیں، ملوں کی خریداری اور موسمی حالات حتمی تصویر کے لیے اہم رہیں گے۔