کراچی: مقامی کاٹن زونز میں کپاس کی آمد بڑھنے اور فصل کے لیے موافق موسمی حالات کے باعث کاٹن ایئر 2026-27 میں پاکستان کی کپاس کی پیداوار ابتدائی توقعات سے بہتر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق رسد میں اضافے کے بعد مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کی قیمتوں پر دوبارہ کمی کا دباؤ آیا ہے۔ یہ اندازہ کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق سے منسوب ہے اور اسے ابھی کسی حتمی سرکاری فصل تخمینے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

احسان الحق کے مطابق گزشتہ ہفتے کے آغاز میں عالمی منڈیوں میں تیزی کے اثر سے پاکستان میں روئی کی قیمت 500 سے 700 روپے فی من بڑھی تھی۔ بعد میں بیشتر مقامی کاٹن زونز میں کپاس کی غیر متوقع آمد بڑھنے پر قیمتیں 300 سے 400 روپے فی من کم ہوئیں۔ رپورٹ میں پنجاب میں روئی کی قیمت 18 ہزار 800 روپے اور سندھ میں 18 ہزار 600 روپے فی من تک آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ نئے ہفتے میں عالمی نرخوں کی سمت کے مطابق مقامی قیمتوں میں مزید کمی یا اضافہ ممکن ہے۔

رپورٹ میں جنوبی علاقوں سے شمال اور سمندر سے پہاڑی سلسلوں کی جانب چلنے والی مقامی ہوا، جسے علاقائی طور پر دکھن کہا جاتا ہے، کو فصل کے لیے سازگار قرار دیا گیا۔ احسان الحق کے مطابق اس ہوا سے حبس میں کمی، کیڑوں اور سنڈیوں کے حملوں میں کمی اور پودوں کی بڑھوتری بہتر ہوئی، جس سے کپاس کی مقدار اور معیار دونوں پر مثبت اثر پڑا۔ یہ زرعی اثرات بھی انہی کے تجزیے سے منسوب ہیں؛ رپورٹ میں کسی الگ زرعی تحقیقی ادارے کی پیمائش شامل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ عرصے میں بارشیں محدود رہیں اور دکھن کا سلسلہ جاری رہا تو معیاری روئی کی دستیابی گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں بہتر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں درآمدی روئی کی ضرورت میں کمی کا امکان ہوگا، مگر اس کا حقیقی اثر فصل کی حتمی مقدار، معیار، ملوں کی طلب اور عالمی قیمتوں سے طے ہوگا۔ چیک شدہ رپورٹ نے ابھی مجموعی ملکی پیداوار کا کوئی نیا عدد یا سرکاری ہدف نہیں دیا۔

فورم کے چیئرمین نے بھاری ٹیکسوں کے باعث روئی کی غیر دستاویزی خرید و فروخت بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان سمیت روایتی کاٹن زونز میں شوگر ملوں کے پھیلاؤ اور گنے کی کاشت کے لیے مالی سہولتوں سے مستقبل میں کپاس کے زیرِ کاشت رقبے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان جاری رہنے پر روئی اور خوردنی تیل کی درآمدی ضرورت دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ موجودہ بہتر outlook کے ساتھ اس طویل مدتی ساختی خطرے کو الگ رکھنا ضروری ہے؛ حتمی فصل، سرکاری آمد کے اعداد اور سیزن کے اختتام کے نرخ سامنے آنے پر زیادہ قطعی جائزہ ممکن ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک