اسلام آباد: اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل نے وزیراعظم کی ہدایت پر ریگولیٹری اصلاحات کے نفاذ کو تیز کرنے کی اطلاع دی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق اقدامات کا مقصد کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے عمل میں غیرضروری رکاوٹیں کم کرنا اور سرمایہ کاری کے لیے نسبتاً سازگار ماحول بنانا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے تحت غیرضروری قواعد، کاغذی کارروائی اور پیچیدہ شرائط کا جائزہ لے کر انہیں آسان یا ختم کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں لائسنسنگ کے مراحل کو سادہ بنانے، دفتری رکاوٹیں کم کرنے اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کرنے کو نمایاں کیا گیا۔ کونسل کا کہنا ہے کہ اس عمل سے کاروباری اداروں کا انتظامی بوجھ اور آپریشنل اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ پیش رفت پالیسی اور عملدرآمد کے جاری عمل سے متعلق ہے، کسی مکمل شدہ اصلاحاتی پیکیج یا تمام کاروباروں کے لیے ثابت شدہ لاگت میں کمی کا اعلان نہیں۔ ایکسپریس کی رپورٹ میں تبدیل یا ختم کیے گئے انفرادی قواعد کی مکمل فہرست، ذمہ دار اداروں کے نام، نفاذ کی تاریخیں یا کاروباروں کے سروے پر مبنی نتائج شامل نہیں۔ اس لیے فوائد کو ایس آئی ایف سی کی بیان کردہ توقع کے طور پر پڑھنا چاہیے۔
کاروباری آسانی میں حقیقی بہتری کا اندازہ اس وقت ہوگا جب درخواستوں کی مدت، لائسنسوں کے مراحل، سرکاری فیس، دستاویزات کی تعداد اور شکایات کے حل جیسے پیمانے پہلے اور بعد کی صورت حال کے ساتھ سامنے آئیں۔ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اس کام کا اہم حصہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ایک ہی کاروبار کو متعدد محکموں کی منظوری درکار ہونے کی صورت میں ایک ادارے کی تبدیلی اکیلے مکمل نتیجہ نہیں دیتی۔
ایس آئی ایف سی نے ان اصلاحات کو سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع سے جوڑا ہے۔ اگلی اہم خبر مخصوص قواعد میں منظور شدہ تبدیلی، عملی نوٹیفکیشن، ڈیجیٹل یا واحد ونڈو نظام، اور کاروباری صارفین کے قابل پیمائش تجربے سے متعلق ہوگی۔ موجودہ رپورٹ اتنا ثابت کرتی ہے کہ کونسل نے جائزہ اور رابطہ کاری تیز کرنے کا اعلان کیا ہے؛ حتمی معاشی اثر مستقبل کے نفاذ سے معلوم ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




