پاکستان کی خام تیل درآمدات اگست 2026 میں ماہانہ بنیاد پر 62 فیصد بڑھ کر 12 لاکھ 38 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں، جب کہ جولائی میں یہ حجم 7 لاکھ 63 ہزار 702 ٹن تھا۔ صنعت سے وابستہ ذرائع نے اس اضافے کو عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور مستقبل کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث مقامی ریفائنریز کی جانب سے ذخائر بڑھانے کی کوششوں سے جوڑا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق آئل انڈسٹری کے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں پاکستان نے مجموعی طور پر 20 لاکھ ایک ہزار ٹن خام تیل درآمد کیا۔ اگست میں ہونے والا نمایاں اضافہ ایسے وقت سامنے آیا جب عالمی منڈی میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور رسد کے خدشات نے تیل کی دستیابی اور قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی بڑھا رکھی ہے۔
پاکستان اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر خاصا انحصار کرتا ہے۔ اس لیے بین الاقوامی قیمتوں، سمندری ترسیل اور بڑے پیداواری خطوں میں کشیدگی کا اثر مقامی ریفائنریز کے خریداری فیصلوں اور ملکی درآمدی بل پر پڑ سکتا ہے۔ زیادہ مقدار میں خام تیل منگوانے کا مطلب لازماً مقامی طلب میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوتا، کیونکہ ریفائنریز بعض اوقات مستقبل کی رسد یا قیمت کے خطرات سے بچنے کے لیے انوینٹری بھی بڑھاتی ہیں۔
رپورٹ میں صنعت کے ذرائع نے اگست کی خریداری میں تیزی کی بنیادی وجہ سپلائی کے ممکنہ تعطل کے خلاف پیشگی تیاری قرار دی۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اضافی درآمد شدہ خام تیل میں سے کتنی مقدار فوری ریفائننگ کے لیے استعمال ہوئی اور کتنی ذخیرہ کی گئی۔
خام تیل کی درآمد میں یہ ماہانہ اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے اخراج، ریفائنری آپریشن اور پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی فراہمی کے لیے اہم اشارہ ہے۔ اس کے مالی اثرات کا انحصار درآمدی قیمت، روپے کی شرح مبادلہ اور آئندہ مہینوں میں عالمی تیل بازار کی سمت پر ہوگا۔
