اسلام آباد: وفاقی حکومت اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک کے جاری جائزے میں نقد لین دین کی لازمی رپورٹنگ کے لیے مقرر حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی اداروں کی رپورٹنگ کو زیادہ مؤثر بنانا اور نگرانی کے وسائل کو نسبتاً زیادہ خطرے والے لین دین پر مرکوز کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم مجوزہ حد ابھی حتمی طور پر نافذ نہیں ہوئی۔

کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ، جسے عام طور پر سی ٹی آر کہا جاتا ہے، اینٹی منی لانڈرنگ نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ مقررہ حد سے زیادہ نقد لین دین کی صورت میں متعلقہ مالیاتی ادارے کو ضابطے کے مطابق رپورٹنگ کرنا ہوتی ہے۔ یہ نظام مشتبہ مالی سرگرمیوں کی شناخت میں معاون ہے، لیکن سی ٹی آر خود کسی جرم، منی لانڈرنگ یا غیر قانونی سرگرمی کا ثبوت نہیں ہوتی۔ مشتبہ لین دین کی رپورٹنگ اور اس کے بعد کی تحقیقات الگ قانونی و نگرانی کے مراحل ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں حکومت مالیاتی شعبے کے قواعد، ٹیکس انتظام اور کاروباری سہولت سے متعلق متعدد اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ نقد لین دین کی رپورٹنگ حد میں ممکنہ اضافہ اسی وسیع تر عمل کا حصہ ہے جس میں ریگولیٹرز اور متعلقہ ادارے موجودہ حدود اور ان کے عملی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ کاروبار اور بینکاری نظام پر غیر ضروری انتظامی بوجھ کم کیا جائے لیکن مالی جرائم کے خلاف نگرانی کمزور نہ ہو۔

اگر 30 لاکھ روپے کی نئی حد منظور ہوتی ہے تو مقررہ رقم سے کم عام نقد لین دین کی ایک بڑی تعداد خودکار سی ٹی آر تقاضے سے باہر ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ رقم کے لین دین پر رپورٹنگ برقرار رہے گی۔ اس کے باوجود بینکوں اور دیگر رپورٹنگ اداروں کی ذمہ داری صرف رقم کی حد تک محدود نہیں ہوتی؛ غیر معمولی یا مشتبہ سرگرمی کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت الگ رپورٹنگ کی ضرورت برقرار رہ سکتی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ برسوں میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تقاضوں کے تناظر میں اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام میں متعدد قانونی اور ادارہ جاتی تبدیلیاں کی ہیں۔ اسی لیے رپورٹنگ حد میں کسی بھی ترمیم کا جائزہ نگرانی کی مؤثریت، بین الاقوامی ذمہ داریوں اور مالیاتی شعبے کی عملی ضروریات کے ساتھ ملا کر لیا جائے گا۔ فی الحال 30 لاکھ روپے کا عدد زیر غور تجویز ہے؛ اسے نافذ شدہ قانونی حد سمجھنا درست نہیں ہوگا جب تک متعلقہ اتھارٹی باضابطہ منظوری اور نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔