اسلام آباد: رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کا نو علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ سالانہ بنیاد پر 26.62 فیصد بڑھ کر 4.97 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ سرکاری تجارتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی جولائی تا ستمبر عرصے میں یہ فرق تقریباً 3.93 ارب ڈالر تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی تجارت میں درآمدات اور برآمدات کے درمیان عدم توازن مزید بڑھا ہے۔
اعداد و شمار میں چین، بنگلہ دیش، بھارت، افغانستان، سری لنکا، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے ساتھ تجارت شامل ہے۔ پاکستان کی علاقائی درآمدات میں چین کا حصہ بدستور سب سے بڑا ہے، اس لیے مجموعی تجارتی خسارے کی سمت پر پاک چین تجارت کا نمایاں اثر پڑتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کے لیے مواقع موجود ہیں، لیکن مجموعی برآمدی حجم درآمدی ادائیگیوں کے مقابلے میں کم رہا۔
علاقائی تجارت پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ قریبی منڈیوں تک نقل و حمل کا فاصلہ نسبتاً کم ہوتا ہے اور زمینی یا مختصر سمندری راستوں سے تجارت کی لاگت دور دراز منڈیوں کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے۔ تاہم سرحدی پابندیاں، ادائیگی کے مسائل، ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں، محدود علاقائی رابطہ کاری اور سیاسی کشیدگی کئی تجارتی راستوں کی مکمل صلاحیت استعمال ہونے میں رکاوٹ بنتی رہی ہیں۔
پاکستانی پالیسی ساز برآمدات بڑھانے اور درآمدی بل کو زیادہ پیداواری ضروریات تک محدود رکھنے کو بیرونی کھاتے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔ علاقائی خسارے میں اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب حکومت وسیع تر برآمدی مسابقت، صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری میں اضافے کی کوشش کر رہی ہے۔ صرف تجارتی خسارے کا بڑھنا کسی ایک ملک کے ساتھ تعلقات یا کسی ایک پالیسی کی کامیابی یا ناکامی کا حتمی پیمانہ نہیں، کیونکہ درآمدات میں مشینری، خام مال اور صنعتی ان پٹس بھی شامل ہو سکتے ہیں جو مقامی پیداوار کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
پہلی سہ ماہی کے اعداد پورے مالی سال کے حتمی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتے۔ آنے والے مہینوں میں عالمی اجناس کی قیمتیں، روپے کی قدر، داخلی طلب، سرحدی حالات اور برآمدی آرڈرز تجارت کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود 26.62 فیصد اضافہ حکومت کے لیے یہ چیلنج نمایاں کرتا ہے کہ علاقائی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور برآمدی تنوع بڑھایا جائے تاکہ قریبی ممالک کے ساتھ تجارت زیادہ متوازن ہو سکے۔

