اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں طویل مدتی رسک کیپیٹل اور نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نیشنل پرائیویٹ ایکویٹی فریم ورک کو آئندہ دو ہفتوں میں حتمی شکل دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق مجوزہ پالیسی کا مقصد ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے واضح ضابطہ جاتی اور ٹیکس ماحول قائم کرنا ہے، جبکہ 10 سے 15 ارب ڈالر تک ٹیکس نیوٹرل سرمایہ کاری متحرک کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس میں ریگولیٹری اور ٹیکس اصلاحات، ملکی سرمائے کو متحرک کرنے اور قابل سرمایہ کاری منصوبوں کی تیاری پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ فریم ورک کی تکمیل کے بعد وہ ریگولیٹری اقدامات جن کے لیے بجٹ قانون سازی ضروری نہیں، فوری طور پر کیے جا سکتے ہیں، جبکہ بعض پالیسی اقدامات آئندہ مالی سال کے فنانس بل کے ذریعے متعارف کرانے کی تجویز ہے۔

اجلاس میں بینکوں، انشورنس کمپنیوں، میوچل فنڈز، پنشن اسکیموں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، مقامی کارپوریشنز اور فیملی آفسز کے پاس موجود سرمائے کو نجی ایکویٹی فنڈز اور تجارتی طور پر قابل عمل منصوبوں کی طرف لانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک واحد پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ میں بینکوں کے لیے قابل اجازت سرمایہ کاری کی حد 10 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کی جا چکی ہے۔

ٹیکس کے شعبے میں کمیٹی نے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈز کو پاس تھرو وہیکل کے طور پر برتنے سمیت مختلف تجاویز کا جائزہ لیا، جس میں ٹیکس سرمایہ کار کی سطح پر عائد ہونے کا تصور شامل ہے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ بین الاقوامی ماڈلز کا جائزہ پاکستان کے معاشی اور ریگولیٹری حالات کے مطابق لیا جائے اور ایسا کوئی انتظام نہ بنایا جائے جو ٹیکس آربیٹریج یا غیر ارادی ریگولیٹری خامیوں کا باعث بنے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس سے متعلق بینکوں کے ضابطوں میں تبدیلی کے بعد متعلقہ پورٹ فولیو 2021 کے تقریباً 22 ارب روپے سے بڑھ کر 280 ارب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ واضح داخلہ اور اخراج قواعد، شفاف فنڈ ڈھانچے اور قابل پیش گوئی ٹیکس نظام غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اہم ہیں۔

وزیر خزانہ نے فوری ترجیح ملکی سرمائے کو متحرک کرنے کو قرار دیا تاکہ فعال مقامی مارکیٹ بعد میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مشترکہ سرمایہ کاری کو بھی راغب کر سکے۔ تاہم 10 سے 15 ارب ڈالر کا عدد فی الحال پالیسی فریم ورک کی ممکنہ سرمایہ کاری صلاحیت اور ہدف کے طور پر زیر بحث ہے، اسے پہلے سے حاصل شدہ یا یقینی سرمایہ کاری نہیں سمجھا جائے گا۔