اوٹاوا/ابوظبی: کینیڈا اور متحدہ عرب امارات نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ایک جامع تجارتی معاہدہ طے کیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کے مطابق معاہدے کا مقصد اشیا اور خدمات کی تجارت میں رکاوٹیں کم کرنا، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا اور کاروباری اداروں کے لیے ایک دوسرے کی منڈیوں تک زیادہ قابل پیش گوئی رسائی پیدا کرنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے اور امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات مختلف خطوں کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدوں کے ذریعے اپنی تجارت اور سرمایہ کاری کے نیٹ ورک کو وسعت دے رہا ہے۔ خلیجی ریاست توانائی، لاجسٹکس، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا اہم علاقائی مرکز ہے، جبکہ کینیڈا زرعی مصنوعات، معدنیات، توانائی، ٹیکنالوجی اور خدمات میں بڑی برآمدی صلاحیت رکھتا ہے۔
جامع تجارتی معاہدوں میں عموماً ٹیرف میں کمی، کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانے، خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے قواعد واضح کرنے اور سرمایہ کاروں کے لیے قانونی فریم ورک بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہوتے ہیں۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نئے انتظام کا مقصد کمپنیوں کے لیے تجارتی لاگت کم کرنا اور دوطرفہ کاروباری روابط میں اضافہ کرنا ہے۔ معاہدے کے مختلف حصوں کے عملی اثرات متعلقہ قانونی اور انتظامی اقدامات نافذ ہونے کے بعد زیادہ واضح ہوں گے۔
کینیڈا کے لیے خلیجی خطہ خوراک، زرعی مصنوعات، صاف توانائی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں میں سرمایہ کاری اور برآمدات کے نئے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے سرکاری اور نجی سرمایہ کار کینیڈا میں بنیادی ڈھانچے، توانائی اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک پہلے ہی سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات رکھتے ہیں، تاہم جامع معاہدہ ان روابط کے لیے زیادہ منظم ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
معاہدے سے متعلق اعلان کو فوری طور پر تمام ممکنہ تجارتی فوائد حاصل ہونے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ کاروباری اثرات کا انحصار ٹیرف شیڈول، قواعد کے نفاذ، کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور عالمی معاشی حالات پر ہوگا۔ تاہم دونوں حکومتوں نے اسے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے اور تجارت کو زیادہ متنوع بنانے کی سمت اہم قدم قرار دیا ہے۔

