لندن: دنیا کی بڑی معیشتوں میں مہنگائی کے دباؤ کے جلد ختم ہونے کے امکانات کم ہو رہے ہیں اور رائٹرز کے ایک وسیع سروے میں ماہرین اقتصادیات نے 2027 تک قیمتوں میں نسبتاً تیز اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔ 500 سے زیادہ ماہرین پر مشتمل سروے کے مطابق 50 میں سے 31 معیشتوں کے لیے اگلے سال کی مہنگائی کی پیش گوئیاں اوپر کی گئی ہیں، جن میں 21 ترقی یافتہ معیشتوں میں سے 15 بھی شامل ہیں۔
سروے کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں صرف پٹرول، گیس یا بجلی تک محدود رہنے کے بجائے نقل و حمل، پیداوار اور خدمات کے اخراجات کے ذریعے بنیادی مہنگائی میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ خام تیل اکتوبر کے اوائل سے 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہا ہے اور امریکا و اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی کی یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کئی مرکزی بینک پہلے ہی کئی برس کی بلند مہنگائی کے بعد قیمتوں کو ہدف کی طرف واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین نے برطانیہ اور یورو زون سمیت متعدد معیشتوں کے لیے 2027 کے افراط زر تخمینوں میں نسبتاً نمایاں اضافہ کیا۔ سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ عالمی معیشت کی رفتار مکمل طور پر کمزور نہیں ہوئی۔ مضبوط معاشی سرگرمی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی عالمی سرمایہ کاری کے پس منظر میں عالمی نمو کی پیش گوئی رواں سال کے لیے 3.0 فیصد اور اگلے سال کے لیے 3.2 فیصد تک بہتر کی گئی ہے۔
یہ امتزاج مرکزی بینکوں کے لیے پالیسی کا مشکل ماحول پیدا کرتا ہے۔ اگر معاشی نمو برقرار رہتی ہے لیکن توانائی اور دیگر لاگتیں مہنگائی کو اوپر رکھتی ہیں تو شرح سود میں تیزی سے کمی کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ضرورت سے زیادہ سخت مالیاتی پالیسی سرمایہ کاری، روزگار اور صارفین کی طلب کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سروے میں شامل ماہرین کی رائے پیش گوئی ہے، حتمی نتیجہ نہیں، اور توانائی کی قیمتوں، جنگی صورتحال، تجارتی پالیسی اور مالیاتی فیصلوں میں تبدیلی سے منظرنامہ بدل سکتا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کا سیاسی اثر بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ متعدد ممالک میں خوراک، ایندھن، رہائش اور قرض کی لاگت ووٹرز کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ موجودہ سروے اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ عالمی معیشت میں نمو کے باوجود مہنگائی کے خلاف لڑائی 2027 میں بھی مرکزی بینکوں اور حکومتوں کی بنیادی پالیسی ترجیحات میں شامل رہ سکتی ہے۔
