کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 35 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے خسارے میں رہا۔ یہ خسارہ اگست 2026 کے نظرثانی شدہ 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے خسارے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، جبکہ ستمبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 13 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستمبر میں برآمدات اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، تاہم درآمدی بل میں زیادہ تیز رفتار اضافے نے بیرونی کھاتے پر دباؤ بڑھایا۔ اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات ستمبر 2026 میں تقریباً 3.95 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 3.42 ارب ڈالر کے مقابلے میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ دوسری جانب مجموعی درآمدات 7.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ستمبر 2025 کے 5.99 ارب ڈالر سے 23 فیصد سے زیادہ بلند ہیں۔
کارکنوں کی ترسیلات زر بھی مثبت رہیں۔ ستمبر 2026 میں بیرون ملک پاکستانیوں نے تقریباً 3.59 ارب ڈالر بھیجے، جبکہ ایک سال پہلے اسی مہینے میں یہ رقم 3.18 ارب ڈالر تھی۔ یوں ترسیلات میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا، لیکن درآمدات کے زیادہ حجم کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ کو خسارے سے بچایا نہ جا سکا۔
رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں خسارہ 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا، اس طرح سالانہ بنیاد پر پہلی سہ ماہی کا خسارہ تقریباً 16 فیصد بڑھا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق پورے مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے، تاہم یہ ایک تخمینہ ہے اور اصل نتیجہ درآمدات، برآمدات، ترسیلات زر، توانائی کی قیمتوں اور سرمائے کی آمد سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ انڈیکس ستمبر میں 0.98 فیصد بڑھ کر 108.93 ہوگیا، جو اگست میں 107.87 تھا۔ REER مختلف تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں ملکی قیمتوں اور شرح مبادلہ کو وزن دے کر مسابقتی پوزیشن کا اشاریہ فراہم کرتا ہے۔ ستمبر کے اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پالیسی ساز بیرونی ادائیگیوں کے توازن، درآمدی طلب اور برآمدی مسابقت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

