اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ضروری اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی اجناس کی سپلائی چین اور قیمتوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور مقررہ یا معمول کی سطح سے زائد قیمت وصول کرنے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یہ ہدایات ضروری اشیا سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

اجلاس میں ملک میں بنیادی اشیا کے موجودہ ذخائر، سپلائی کے انتظامات اور قیمتوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ داخلی طلب پوری کرنے کے لیے مناسب ذخائر دستیاب ہیں، فوری طور پر کسی بڑی قلت کا خدشہ نہیں اور قیمتوں میں استحکام کے آثار ہیں۔ یہ معلومات متعلقہ سرکاری اداروں کی بریفنگ پر مبنی ہیں اور مختلف شہروں یا منڈیوں میں مقامی قیمتوں اور دستیابی میں فرق ہو سکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق وفاقی اور صوبائی متعلقہ اداروں کو سپلائی چین پر نظر رکھنے اور صارفین کو سہولت دینے کے لیے قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی جاری رکھنے کو کہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزی یا جان بوجھ کر مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوششیں برداشت نہیں کی جائیں گی اور ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ زائد قیمت وصول کرنے کے معاملات پر بھی متعلقہ انتظامیہ کو فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت دی گئی۔

اجلاس میں قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور موسمیاتی تبدیلی کے وفاقی وزرا، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری تجارت اور وفاقی و صوبائی وزارتوں اور محکموں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ مختلف اداروں کی موجودگی کا مقصد ذخائر، درآمدی یا مقامی سپلائی، ترسیل اور بازار میں قیمتوں سے متعلق معلومات کو ایک مشترکہ جائزے میں شامل کرنا تھا۔

حکومت کی یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گھریلو صارفین کے لیے خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں معاشی پالیسی کا اہم مسئلہ ہیں۔ اجلاس میں کسی نئی سبسڈی، قیمت مقرر کرنے کے نئے فارمولے یا مخصوص شے کے لیے نئی درآمدی مقدار کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بنیادی فیصلہ موجودہ ذخائر اور سپلائی کی نگرانی کو مضبوط کرنے اور ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور اوور چارجنگ کے خلاف انتظامی کارروائی پر زور دینا تھا۔ آئندہ قیمتوں کا رجحان فصلوں، درآمدی لاگت، نقل و حمل، طلب اور مقامی منڈیوں کی صورتحال سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے۔