اسلام آباد: شاہین انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ اور چین کی اینٹن آئل فیلڈ سروسز گروپ نے پاکستان کے گیس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ کمپنی کے بیان کے مطابق دونوں ادارے اگلے تین سے پانچ سال کے دوران تقریباً 20 ارب روپے کے سرمایہ کاری پروگرام پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا محور گیس مارکیٹ میں حالیہ پالیسی اصلاحات اور اپ اسٹریم گیس شعبے کے انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن منصوبے ہوں گے۔

یہ پیش رفت حکومت کے اس فریم ورک کے پس منظر میں سامنے آئی ہے جس کے تحت اہل ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیاں پائپ لائن معیار کی گیس میں اپنے حصے کا 35 فیصد تک مسابقتی عمل کے ذریعے تیسرے فریق کو فروخت کر سکتی ہیں، بشرطیکہ خریدار کے پاس آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا متعلقہ لائسنس ہو۔ یہ انتظام ترمیم شدہ پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن پالیسی 2012 کے تحت متعارف کرایا گیا اور 2024 میں ایک قانونی نوٹیفکیشن کے ذریعے پالیسی میں تبدیلی کی گئی تھی۔

اس پالیسی تبدیلی کا مقصد اہل گیس پروڈیوسرز کو زیادہ تجارتی لچک فراہم کرنا اور نجی شعبے کے لیے گیس پروسیسنگ، نقل و حمل اور سپلائی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ پاکستان کے توانائی شعبے میں مقامی گیس کی پیداوار، فراہمی کے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی صارفین تک رسائی طویل عرصے سے پالیسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ تیسرے فریق کو فروخت کا فریم ورک اسی تناظر میں مارکیٹ کے مزید شرکا کو شامل کرنے کی کوشش ہے۔

کراچی میں قائم شاہین انرجی کم دباؤ والی قدرتی گیس اور فلیئر گیس کے استعمال اور پروسیسنگ سے متعلق تنصیبات کی تیاری اور آپریشن میں کام کرتی ہے۔ کمپنی گیس کی صفائی، پیوریفیکیشن، ڈی ہائیڈریشن اور کمپریشن جیسی خدمات فراہم کرتی ہے تاکہ گیس کو صنعتی اور تجارتی صارفین کو فراہم کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ دوسری جانب اینٹن آئل فیلڈ سروسز گروپ چین سے تعلق رکھنے والی آئل فیلڈ خدمات کی کمپنی ہے، اور مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں فریق پاکستان میں ممکنہ منصوبوں کی نشاندہی اور سرمایہ کاری کے دائرہ کار کا جائزہ لیں گے۔

مفاہمتی یادداشت بذات خود حتمی سرمایہ کاری، مالیاتی بندوبست یا کسی مخصوص منصوبے کی تکمیل کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اعلان میں 20 ارب روپے کو آئندہ تین سے پانچ سال کے ممکنہ سرمایہ کاری پروگرام کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس لیے عملی سرمایہ کاری متعلقہ منصوبوں، تجارتی شرائط، ریگولیٹری منظوریوں اور دونوں کمپنیوں کے حتمی فیصلوں سے مشروط ہوگی۔ تاہم یہ معاہدہ پاکستان کے گیس شعبے میں حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے بعد نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی ایک نئی مثال ہے۔