اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کلین انوائرمنٹ فنڈ کمپنی (سی ای ایف سی) کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 2015 میں غیر منافع بخش ادارے کے طور پر قائم ہونے کے باوجود ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک عملی طور پر غیر فعال رہی۔ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارہ جات کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، بحالی اور بہتری کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل جمع کرنے اور انہیں استعمال میں لانے کا ادارہ جاتی راستہ بحال کرنا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ نے پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے تحت کمپنی کو فعال کرنے کی درخواست دی تھی۔ کمیٹی نے اس مقصد کے لیے دو عہدے کے لحاظ سے ارکان اور تین آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری دی۔ نئے بورڈ کی تشکیل کمپنی کو قانونی اور انتظامی طور پر دوبارہ فعال کرنے کا بنیادی قدم ہے۔

کلین انوائرمنٹ فنڈ کمپنی 2015 میں کمپنیز آرڈیننس کی دفعہ 42 کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اس کے قیام کا مقصد ماحول کے تحفظ، قدرتی وسائل کے تحفظ، متاثرہ ماحول کی بحالی اور بہتری کے لیے مالی وسائل کی دستیابی آسان بنانا تھا۔ تاہم کمپنی اپنے قیام کے بعد فعال کردار ادا نہ کر سکی اور ریاستی آڈیٹرز نے متعدد مرتبہ اس کی غیر فعالیت اور قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل کی نشاندہی کی۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق کمپنی اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی کیونکہ اس نے بورڈ اجلاس منعقد نہیں کیے اور طویل عرصے تک غیر فعال رہی۔ آڈٹ اعتراضات میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ کمپنیز ایکٹ کے تحت لازم سالانہ عمومی اجلاسوں جیسے بنیادی کارپوریٹ تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ حکومت کا تازہ فیصلہ اسی غیر فعال ڈھانچے کو باقاعدہ بورڈ اور انتظامی نگرانی کے ساتھ دوبارہ کام میں لانے کی کوشش ہے۔

پاکستان کو فضائی آلودگی، پانی کے معیار، جنگلات میں کمی، موسمیاتی شدت اور شہری ماحولیاتی دباؤ سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے منصوبوں کے لیے سرکاری بجٹ کے علاوہ خصوصی مالیاتی ذرائع اور بین الاقوامی وسائل تک رسائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ سی ای ایف سی کا اصل قانونی مقصد بھی ماحول دوست اقدامات کے لیے وسائل متحرک اور استعمال کرنے میں سہولت فراہم کرنا تھا۔

کمیٹی کی منظوری کمپنی کے فعال ہونے کی انتظامی بنیاد فراہم کرتی ہے، تاہم اس مرحلے پر کسی مخصوص ماحولیاتی منصوبے، فنڈ کے حجم یا سرمایہ کاری کی حتمی تقسیم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ادارے کی عملی افادیت کا انحصار نئے بورڈ کی تشکیل، قانونی تقاضوں کی پابندی، شفاف مالیاتی نظام اور مستقبل میں منظور ہونے والے منصوبوں پر ہوگا۔