اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی نئی پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دستیاب خوراک کی مجموعی ساخت قومی غذائی رہنما اصولوں سے نمایاں طور پر مختلف ہے اور کئی اہم غذائیت سے بھرپور گروپوں میں مسلسل کمی پائی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سبزیوں، پھلوں، جڑوں و گانٹھوں اور دالوں کی دستیابی ضرورت سے کم ہے، جبکہ اناج اور چینی کی فراہمی غذائی تقاضوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
’فوڈ سپلائی فار ہیلتھی ڈائٹس اِن پاکستان‘ کے عنوان سے جاری پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ متنوع، محفوظ، غذائیت بخش اور قابلِ استطاعت خوراک تک مساوی رسائی یقینی بنانا پالیسی کی اہم ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی صحت مند غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی، جس سے غذائی قلت کے ساتھ خوراک سے منسلک غیر متعدی بیماریوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔
پاکستان نے 2018 میں خوراک پر مبنی قومی غذائی رہنما اصول اختیار کیے تھے۔ ایف اے او نے 2010 سے 2023 تک دس غذائی گروپوں میں سالانہ ملکی خوراک کی فراہمی کو آبادی کی تخمینی ضرورت سے ملا کر دیکھا۔ اس تجزیے میں سبزیوں کی کمی 2010 کے تخمینے 10.9 سے 17.8 ملین ٹن کے مقابلے میں 2023 میں 13 سے 21.6 ملین ٹن تک پہنچنے کی نشاندہی کی گئی۔ پھلوں کے معاملے میں بھی تخمینی فرق اسی عرصے میں بڑھا۔
رپورٹ کے مطابق دودھ اور دودھ کی مصنوعات، گوشت اور انڈوں کی دستیابی میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ چکنائی اور تیل کی فراہمی 2010 کی معمولی کمی کے بعد بعد کے برسوں میں اندازاً مطلوبہ حد کے اندر آ گئی۔ آبادی میں تیز اضافے کو مستقبل کے غذائی نظام کے لیے ایک اضافی دباؤ قرار دیا گیا ہے؛ رپورٹ میں 2023 کی آبادی 235.2 ملین اور 2050 تک تقریباً 330 ملین ہونے کا تخمینہ درج ہے۔
ایف اے او نے زرعی پیداوار اور تجارت کی ترجیحات کو غذائی ضروریات کے مطابق بنانے، خوراک کی تقسیم بہتر کرنے، فصل کٹنے کے بعد ہونے والے نقصانات اور غذائی ضیاع کو کم کرنے اور صحت مند خوراک کی طلب بڑھانے کے لیے مربوط مالی اور ضابطہ جاتی اقدامات کی سفارش کی ہے۔ پالیسی بریف میں سبزیوں، پھلوں، دالوں اور جڑوں والی فصلوں میں سرمایہ کاری بڑھانے، غذائی تعلیم بہتر کرنے اور پیکٹ کے سامنے غذائیت کی واضح لیبلنگ سمیت مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

