اسلام آباد: وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوشش اور پہاڑوں و گلیشیئرز پر بین الاقوامی تحقیق بڑھانے پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سرحدوں تک محدود مسئلہ نہیں اور اس کے اثرات کا مقابلہ سائنسی تعاون اور مشترکہ پالیسی اقدامات کے ذریعے کرنا ہوگا۔
مصدق ملک نے بتایا کہ پاکستان نے ایک گرین یونیورسٹی قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ اس تصور کا مقصد ماحولیاتی جدت، تحقیق، ہنرمندی اور ملک کی پائیدار کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی کو سہارا دینا ہے۔ تجویز ابھی پالیسی سطح پر سامنے آئی ہے اور دستیاب سرکاری بیان میں ادارے کے مقام، بجٹ، قیام کی تاریخ یا تعلیمی ڈھانچے کی حتمی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اخراج میں مزید کمی کے لیے بھی پرعزم ہے۔ ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں گلیشیئرز موجود ہیں، جن کی تبدیلی پانی کے بہاؤ، سیلابی خطرات اور طویل مدتی آبی سلامتی سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔
مشترکہ تحقیق کی اپیل کا مقصد گلیشیئرز کی نگرانی، موسمیاتی ماڈلنگ، پانی کے وسائل اور خطرات سے متعلق سائنسی معلومات بہتر بنانا ہے۔ مختلف ممالک کے تحقیقی اداروں کے درمیان ڈیٹا اور مہارت کا تبادلہ پالیسی سازوں کو زیادہ مؤثر موافقتی منصوبے تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
پاکستان گزشتہ برسوں میں عالمی موسمیاتی فورمز پر کم اخراج کے باوجود زیادہ نقصان برداشت کرنے والے ممالک کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ گرین یونیورسٹی کی تجویز اور گلیشیئر تحقیق کی نئی اپیل اسی وسیع تناظر میں سامنے آئی ہے، تاہم ان اقدامات کے عملی نتائج کے لیے فنڈنگ، ادارہ جاتی شراکت داری اور واضح عمل درآمدی منصوبہ ضروری ہوگا۔

