اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کو آٹوموٹیو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2026-31 کے مسودے پر بریفنگ دی گئی ہے، جس میں پاکستان کی گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی صنعت کو زیادہ مسابقتی اور برآمدی بنانے کے لیے متعدد اہداف اور پالیسی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ مسودے میں 2030-31 تک آٹوموٹیو مصنوعات کی سالانہ برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف شامل ہے، تاہم یہ ابھی پالیسی کا مجوزہ ہدف ہے، حاصل شدہ نتیجہ نہیں۔

حکومتی بریفنگ اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پالیسی مسودہ درآمدی ٹیرف کے ڈھانچے کو مرحلہ وار سادہ اور کم کرنے کی سمت رکھتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ ٹیرف کو 2030 تک 15 فیصد تک لانے، اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے اور صنعت کو عالمی مقابلے کے لیے تیار کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس کے ساتھ مقامی پرزہ سازی، ٹیکنالوجی منتقلی اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کو پالیسی کے اہم ستونوں میں شامل کیا گیا ہے۔

مسودے میں نئی توانائی والی گاڑیوں، بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں، کے فروغ کے لیے ٹیکس اور مالی مراعات کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح اور مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کے اقدامات زیر غور ہیں۔ حکومت کا مقصد ایندھن کی درآمد پر دباؤ کم کرنے، ماحولیاتی آلودگی محدود کرنے اور نئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقامی صنعت کو جگہ دینے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ پالیسی کو صارفین کے مفاد، مقامی صنعت کی پائیداری اور برآمدی مسابقت کے تناظر میں حتمی شکل دی جائے۔ آٹو سیکٹر میں پالیسی تبدیلیاں گاڑیوں کی قیمتوں، درآمدی مقابلے، مقامی پرزہ سازوں، روزگار اور حکومتی محصولات پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے مجوزہ ٹیرف میں کمی اور مراعات کے عملی طریقۂ کار کی تفصیلات اہم ہوں گی۔

یہ پالیسی ابھی مسودے اور منظوری کے مرحلے میں ہے۔ حتمی کابینہ منظوری، قانونی و ٹیکس نوٹیفکیشن اور عمل درآمد کے شیڈول کے بغیر تمام مجوزہ شرحوں اور اہداف کو نافذ شدہ پالیسی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ صنعت کے لیے اصل اثر اس وقت واضح ہوگا جب حکومت حتمی دستاویز، ٹیرف روڈ میپ، برآمدی شرائط اور برقی گاڑیوں کے لیے مراعات کا باقاعدہ فریم ورک جاری کرے گی۔