وفاقی حکومت نے 22 اکتوبر 2026 کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمت کے بعد پیٹرول 379 روپے 31 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 390 روپے 11 پیسے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔

یہ تبدیلی پاکستان میں حالیہ عرصے میں اختیار کیے گئے زیادہ کثرت سے قیمتوں کے جائزے کے نظام کے تحت سامنے آئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ اوگرا نے وفاقی حکومت کے مقرر کردہ پیٹرولیم پرائسنگ میکانزم کے مطابق ایکس ڈپو قیمتوں میں ردوبدل کیا۔ عالمی مارکیٹ میں Platts ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات قیمت کے تعین میں شامل عوامل ہیں۔

ایک روز قبل 21 اکتوبر کے لیے پیٹرول کی قیمت 382 روپے 2 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 389 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔ اس طرح 22 اکتوبر کی نظرثانی میں پیٹرول صارفین کو فی لیٹر معمولی ریلیف ملا جبکہ ڈیزل کی قیمت میں محدود اضافہ ہوا۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مجموعی سطح بھی صارف قیمت کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔

حالیہ مہینوں میں عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے پاکستان کی درآمدی توانائی لاگت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل اور تیار مصنوعات کی قیمتوں، فریٹ، پریمیم اور روپے کی قدر میں تبدیلی مقامی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔

نئی شرحیں صرف متعلقہ نوٹیفکیشن میں مقررہ مدت کے لیے ہیں اور یومیہ یا بار بار نظرثانی کے موجودہ نظام کے باعث اگلی قیمت کا تعین تازہ عالمی اور مقامی عوامل کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے 379.31 روپے اور 390.11 روپے کی شرحوں کو طویل مدت کی مقررہ قیمت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ صارفین اور کاروباری شعبے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی ٹرانسپورٹ، زرعی پیداوار، بجلی کی لاگت اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔