وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد میں برآمد کنندگان اور سرکاری حکام کے ساتھ فالو اپ مشاورتی اجلاس میں پاکستان کی برآمدات کی راہ میں حائل توانائی، ٹیکس، فنانسنگ، ضابطہ جاتی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مسائل کا جائزہ لیا ہے۔ اجلاس کا مقصد پہلے اٹھائے گئے مسائل پر سرکاری محکموں کی پیش رفت دیکھنا اور ایسے معاملات کی نشاندہی کرنا تھا جن کے حل کے لیے پالیسی سطح پر مداخلت درکار ہے۔

اجلاس میں صنعتی توانائی کی لاگت، خصوصاً گیس لیوی اور اس کے برآمدی مسابقت پر اثرات پر گفتگو ہوئی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ نے حکومت اور صنعت کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی ہے جو لیوی پالیسی اور اس کے حساب کے طریقہ کار کا جائزہ لے کر ممکنہ بہتری کی سفارشات تیار کرے گی۔ پنجاب انفراسٹرکچر سیس، اس کے اطلاق، وصولی اور کاروباری لاگت پر اثرات بھی زیر بحث آئے۔

ٹیکس کے معاملے میں برآمدی اہلیت کی حدود، برآمدی آمدن سے منسلک متناسب سپر ٹیکس ریلیف، اضافی سیلز ٹیکس اور غیر روایتی برآمد کنندگان کے ریفنڈ انتظامات پر تجاویز سامنے آئیں۔ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے طریقہ کار اور اہلیت کے اصولوں کو آسان بنانے اور ایکسپورٹ گروتھ اسکیم کے تحت مراعات بہتر کرنے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ متعلقہ امور وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ساتھ مزید مشاورت کے لیے بھیجے جائیں گے۔

بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان چین، جنوبی کوریا، ترکی، جاپان اور ویتنام سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ترجیحی رسائی بہتر بنانے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ چین سے مزید ٹیرف رعایتوں کی درخواست کی جا رہی ہے، جبکہ جنوبی کوریا کے ساتھ ترجیحی تجارتی انتظام پر بات چیت بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ ترکی میں پاکستانی ٹائروں کی رسائی اور متعلقہ ٹیرف رعایتوں پر بھی مخصوص مصنوعات اور HS کوڈز کی بنیاد پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں یورپی یونین کے جی ایس پی پلس درجے کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مسلسل تکمیل کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ کاروباری ویزا پابندیوں، سفری ہدایات، انشورنس لاگت، سرٹیفکیشن فیس اور دستاویزات میں ترمیم کے اخراجات بھی برآمد کنندگان نے اٹھائے۔ وزارت تجارت نے متعلقہ اداروں سے قابل عمل تجاویز اور حل کے لیے ٹائم لائن طلب کی ہے۔

یہ اجلاس کسی ایک نئے برآمدی پیکیج یا ٹیکس رعایت کی حتمی منظوری نہیں تھا بلکہ مختلف تجاویز اور سرکاری ردعمل کو یکجا کرنے کا مرحلہ تھا۔ وزارت تجارت کے مطابق سفارشات کو جامع شکل دے کر وزیراعظم کے متوقع اعلیٰ سطح اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں ممکنہ پالیسی فیصلوں کی سمت مزید واضح ہو سکتی ہے۔