حکومت نے قومی بچت کی متعدد اسکیموں پر شرح منافع میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے چھوٹی بچتوں، پنشنرز اور مخصوص فلاحی اکاؤنٹس رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے واپسی کی شرح بہتر ہوئی ہے۔ سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کی تازہ نظرثانی کے مطابق بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹس کی سالانہ شرح منافع 12.72 فیصد سے بڑھا کر 12.96 فیصد کر دی گئی ہے۔

نظرثانی میں ریگولر انکم سرٹیفکیٹس اور بعض دوسری اسکیموں کی شرحیں بھی تبدیل کی گئی ہیں۔ قومی بچت کی شرحیں عام طور پر حکومتی قرض کی لاگت، مارکیٹ میں شرح سود اور متعلقہ پالیسی فیصلوں کے ساتھ حرکت کرتی ہیں، اس لیے مختلف اسکیموں میں تبدیلی یکساں نہیں ہوتی۔ سرمایہ کاروں کے لیے اصل قابل وصول رقم اسکیم کی مدت، ادائیگی کے طریقۂ کار، ٹیکس حیثیت اور قابل اطلاق قواعد کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس جیسی اسکیمیں مخصوص اہل طبقات کو نسبتاً محفوظ بچت کا ذریعہ فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ شرح میں 0.24 فیصد پوائنٹ اضافہ بظاہر محدود ہے، لیکن مستقل آمدن پر انحصار کرنے والے افراد کے لیے بڑے سرمایہ پر اس کا مجموعی سالانہ اثر قابل ذکر ہو سکتا ہے۔ شہدا کے خاندانوں کے لیے مخصوص ویلفیئر اکاؤنٹ بھی اسی نئی 12.96 فیصد شرح کے دائرے میں آیا ہے۔

قومی بچت کی شرحوں میں تبدیلی کو بینک ڈپازٹس یا دوسری سرمایہ کاری مصنوعات کے منافع کے ساتھ براہ راست برابر سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ہر آلے کی مدت، نقدی کی دستیابی، قبل از وقت انکیشمنٹ، ٹیکس اور اہلیت کے قواعد مختلف ہوتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو کسی بھی سرٹیفکیٹ یا اکاؤنٹ میں رقم رکھنے سے پہلے تازہ سرکاری شرح، شرائط اور اپنی ٹیکس پوزیشن کی تصدیق کرنی چاہیے۔

تازہ نظرثانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں شرح سود اور افراط زر کی سمت بچت اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اہم اثر ڈال رہی ہے۔ قومی بچت کی اسکیمیں حکومت کے لیے مقامی قرض حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں، اس لیے ان کی شرح منافع کا تعین صرف صارفین کی واپسی نہیں بلکہ سرکاری فنانسنگ لاگت اور مارکیٹ حالات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ نئی شرحیں متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق مؤثر ہوں گی۔