اسلام آباد: حکومت نے ملک کے آٹو سیکٹر کے لیے پانچ سالہ نئی پالیسی کا مسودہ وفاقی کابینہ کو اصولی منظوری کے لیے بھیج دیا ہے۔ مجوزہ روڈ میپ میں صنعت کو زیادہ مسابقتی بنانے، گاڑیوں اور پرزہ جات کی برآمدات بڑھانے اور درآمدی ٹیرف بتدریج کم کرنے کے اہداف شامل ہیں۔ پالیسی کے تحت 2031 تک آٹو شعبے کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے پالیسی کے بنیادی روڈ میپ کی منظوری دی ہے، تاہم اسے وفاقی کابینہ کی اصولی منظوری اور بعد میں ضروری پارلیمانی عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے مسودے میں شامل تجاویز کو فی الحال نافذ شدہ قانون یا حتمی ٹیکس پالیسی نہیں سمجھا جا سکتا۔ کابینہ اور پارلیمان کے مراحل میں شقوں میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔

مجوزہ پالیسی میں مکمل تیار شدہ گاڑیوں، یعنی سی بی یو، اور مکمل ناک ڈاؤن کٹس، یعنی سی کے ڈی، پر درآمدی ٹیرف کو 2030-31 تک نمایاں طور پر کم کرکے زیادہ سے زیادہ تقریباً 15 فیصد کی سطح کی طرف لے جانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد مقامی صنعت کو زیادہ کھلی مسابقت کے لیے تیار کرنا اور صارفین کو بہتر انتخاب فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔

مسودے میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق ٹیکس اقدامات بھی شامل ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ای وی پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز زیر غور ہے۔ اس اقدام کی حتمی شرح اور اطلاق کا دائرہ کابینہ اور قانون سازی کے بعد واضح ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی برقی گاڑیوں کے استعمال، چارجنگ انفراسٹرکچر اور مقامی تیاری کو بڑھانے کے لیے مختلف مراعات اور پالیسی اقدامات پر کام کر رہا ہے۔

برآمدی ہدف نئی پالیسی کا اہم حصہ ہے کیونکہ پاکستان کی آٹو صنعت تاریخی طور پر مقامی مارکیٹ پر زیادہ انحصار کرتی رہی ہے۔ چھ ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچنے کے لیے گاڑیوں کے ساتھ پرزہ جات، انجینئرنگ مصنوعات، معیار، پیداواری لاگت اور عالمی منڈی تک رسائی میں نمایاں بہتری درکار ہوگی۔ یہ ہدف پالیسی کا ارادہ ہے، حاصل شدہ نتیجہ نہیں۔

حکومت کے مجوزہ فریم ورک سے مقامی اسمبلرز، پرزہ ساز کمپنیوں، درآمد کنندگان اور صارفین سب متاثر ہو سکتے ہیں۔ ٹیرف میں کمی سے درآمدی مسابقت بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ مقامی صنعت کے لیے معیار، قیمت اور برآمدی صلاحیت بہتر بنانے کا دباؤ بھی بڑھے گا۔ پالیسی کی حتمی شکل وفاقی کابینہ اور پارلیمانی منظوری کے بعد ہی واضح ہوگی۔