اسلام آباد: پاکستان کے توانائی شعبے کا مجموعی سرکلر ڈیٹ 5 ہزار 286 ارب روپے تک پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس مجموعی رقم میں گیس شعبے کا سرکلر ڈیٹ 3 ہزار 611 ارب روپے اور بجلی شعبے کا سرکلر ڈیٹ ایک ہزار 675 ارب روپے ہے۔ ان اعداد سے واضح ہوتا ہے کہ مجموعی گردشی قرض میں گیس شعبے کا حصہ بجلی سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

سرکلر ڈیٹ سے مراد توانائی کی فراہمی، بلوں کی وصولی، حکومتی ادائیگیوں اور مختلف اداروں کے باہمی واجبات میں پیدا ہونے والا وہ مالی سلسلہ ہے جو بروقت تصفیے نہ ہونے پر بڑھتا رہتا ہے۔ تازہ رپورٹ نے مجموعی اور شعبہ وار اعداد بیان کیے ہیں، تاہم ان اعداد کا حوالہ ذرائع سے دیا گیا ہے اور مکمل سرکاری تفصیلی جدول ساتھ شائع نہیں کیا گیا۔ اسی بنا پر اعداد کو رپورٹ سے منسوب کرتے ہوئے پیش کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے توانائی شعبے کو مسلسل مالی دباؤ کا شکار قرار دیتے ہوئے اصلاحات تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سرکلر ڈیٹ کے مزید بہاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ ادارے نے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے، تکنیکی و تجارتی نقصانات کم کرنے اور وصولیوں کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔

بجلی کے شعبے میں گردشی قرض کے نئے بہاؤ کو محدود کرنا پاکستان کے لیے ایک اہم چیلنج بتایا گیا ہے۔ گیس کے شعبے میں آئی ایم ایف نے لاگت کے مطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا عمل جاری رکھنے پر زور دیا۔ اس مؤقف کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص نئے نرخ یا فوری اضافے کا اعلان ہو گیا ہے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی نئی ٹیرف شرح یا نفاذ کی تاریخ نہیں دی گئی۔

حکومت نے رواں مالی سال بجلی شعبے کے سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ میں مزید کمی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اصلاحات کا ہدف نقصانات محدود کرکے بجلی اور گیس کے نظام کو مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔ اس پیش رفت کی اصل جانچ آئندہ سرکاری اعداد، وصولیوں، نقصانات اور واجبات کے رجحان سے ہوگی۔ کسی نئی حکومتی اسکیم، قرض تصفیے یا صارفین پر اضافی بوجھ کے بارے میں دستیاب مواد سے باہر کوئی دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک