وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش، خصوصاً سمندر میں آف شور منصوبوں کے لیے سرمایہ کاروں کو مستقل اور قابلِ پیش گوئی پالیسی ماحول درکار ہے۔ انرجی کانفرنس 2026 سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہائی رسک اپ اسٹریم منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری طویل مدت کے فیصلوں سے جڑی ہوتی ہے، اس لیے پالیسی تسلسل اور درمیانی مدت کی واضح سمت سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اہم ہے۔

وزیر نے ایک کنویں پر دس کروڑ ڈالر سے زیادہ سرمایہ لگنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب تلاش کی صورت میں سرمایہ کاروں کو منافع برقرار رکھنے اور ضروری بنیادی ڈھانچے میں دوبارہ لگانے کی گنجائش ملنی چاہیے۔ یہ رقم کسی نئے سرکاری منصوبے کی منظور شدہ لاگت نہیں بلکہ کانفرنس میں بیان کردہ سرمایہ کاری کے پیمانے کی مثال تھی۔ خطاب میں کسی نئی رعایت، مخصوص کمپنی کے معاہدے یا تازہ لائسنس کی مالی شرائط جاری نہیں کی گئیں۔

علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان تقریباً دو دہائیوں کے بعد آف شور تلاش کی سرگرمی بحال کر رہا ہے اور اس کوشش میں دوست ممالک کے ساتھ ماری پیٹرولیم، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی شامل ہیں۔ وزارتِ پیٹرولیم کی مئی 2026 کی سرکاری اطلاع بھی آف شور بلاکس کے لیے پیداواری شراکت کے معاہدوں اور تلاش کے لائسنسوں کے اجرا کی تصدیق کرتی ہے۔ موجودہ کانفرنس میں کسی نئے بلاک کے اضافے یا پیداوار شروع ہونے کا الگ اعلان سامنے نہیں آیا۔

وزیر نے پیٹرولیم، بجلی، پانی اور مالیاتی پالیسیوں کے درمیان زیادہ رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی دوبارہ فعال کی گئی ہے اور اسے توانائی کی مکمل قدر زنجیر کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدگی سے ملنا چاہیے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گردشی قرض کے بہاؤ کو صارف ٹیرف میں اضافہ کیے بغیر تقریباً صفر سطح پر رکھا گیا ہے؛ یہ حکومتی مؤقف ہے اور خبر میں اس دعوے کے ساتھ تفصیلی حساب یا آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔

گیس شعبے کی اصلاحات پر وزیر نے کہا کہ عالمی بینک کی معاونت سے تیار ہونے والی رپورٹ اگست کے آخر تک متوقع ہے، جس کے بعد اسے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔ وزارتِ پیٹرولیم کی 4 اگست کی سرکاری اطلاع کے مطابق یہ روڈ میپ ایندھن کے مختلف حصوں میں ڈی ریگولیشن، زیادہ کھلی اور مسابقتی گیس منڈی، کارکردگی اور عالمی طریقۂ کار سے متعلق تجاویز پر تیار کیا جا رہا ہے۔ حتمی رپورٹ آنے سے پہلے کسی تجویز کو منظور شدہ پالیسی نہیں سمجھا جا سکتا۔

ریفائنریوں کے بارے میں وزیر نے کہا کہ موجودہ تنصیبات کی اپ گریڈیشن، نئی ریفائنری پالیسی اور آپریشنل لچک پر کام جاری ہے، جبکہ متعلقہ معاہدوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے تھرڈ پارٹی رسائی اور نجی شعبے کی شرکت کو بھی اصلاحاتی سمت کا حصہ قرار دیا۔ اگلے قابلِ پیمائش مراحل عالمی بینک کی رپورٹ کی اشاعت، ریفائنری معاہدوں پر دستخط، آف شور تلاش کے عملی کام اور سرمایہ کاری کی حتمی شرائط ہوں گے؛ موجودہ خبر کانفرنس میں بیان کردہ پالیسی سمت اور پہلے سے سرکاری طور پر تصدیق شدہ اصلاحاتی عمل تک محدود ہے۔