پاکستان کی غذائی اشیا کی برآمدات مالی سال 2026-27 کے پہلے مہینے جولائی میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 2.47 فیصد بڑھی ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد پر مبنی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں غذائی برآمدات کی مالیت 43 کروڑ 70 لاکھ 78 ہزار ڈالر رہی، جو جولائی 2025 میں 42 کروڑ 65 لاکھ 55 ہزار ڈالر تھی۔

چاول غذائی برآمدات کا نمایاں حصہ رہا۔ جولائی 2026 میں 3 لاکھ 46 ہزار 24 میٹرک ٹن چاول برآمد کیے گئے جن کی مالیت 19 کروڑ 99 لاکھ 50 ہزار ڈالر تھی۔ ایک سال پہلے اسی مہینے میں 2 لاکھ 93 ہزار 166 میٹرک ٹن چاول کی برآمد سے 16 کروڑ 71 لاکھ 83 ہزار ڈالر حاصل ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق چاول کی برآمدی مالیت میں سالانہ بنیاد پر 19.15 فیصد اضافہ ہوا۔

مچھلی اور اس سے تیار مصنوعات کی برآمدی مالیت میں معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا۔ جولائی میں 11 ہزار 568 میٹرک ٹن مچھلی اور مصنوعات سے 2 کروڑ 25 لاکھ 44 ہزار ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ گزشتہ سال 11 ہزار 738 میٹرک ٹن سے 2 کروڑ 24 لاکھ 47 ہزار ڈالر ملے تھے۔ اس مثال میں مقدار کم اور مالیت قدرے زیادہ رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف ٹنوں کی تعداد کسی شعبے کی ڈالر آمدن کی مکمل وضاحت نہیں کرتی۔

تمباکو کی برآمدی مالیت 72.55 فیصد بڑھ کر 68 لاکھ 61 ہزار ڈالر ہوگئی اور مقدار 2 ہزار 334 میٹرک ٹن رہی۔ مصالحہ جات کی برآمدات 9.95 فیصد اضافے کے ساتھ 74 لاکھ 26 ہزار ڈالر تک پہنچیں۔ تیل دار بیجوں اور گری دار میووں کی برآمدی مالیت میں 493.70 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا اور رقم 2 کروڑ 48 لاکھ 98 ہزار ڈالر رہی۔ بڑے فیصد کو گزشتہ سال کی نسبت سے پڑھنا ضروری ہے؛ موجودہ رپورٹ میں ہر ذیلی شے کی سابقہ بنیادی مالیت الگ نہیں دی گئی۔

گوشت اور گوشت سے تیار مصنوعات کی برآمدی مالیت میں 16.20 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی 2026 میں 8 ہزار 963 میٹرک ٹن سے زیادہ گوشت اور مصنوعات برآمد کرکے 4 کروڑ 70 لاکھ ایک ہزار ڈالر حاصل کیے گئے، جبکہ جولائی 2025 میں 9 ہزار 141 میٹرک ٹن کی مالیت 4 کروڑ 4 لاکھ 49 ہزار ڈالر تھی۔ یہاں بھی برآمدی مقدار کم ہونے کے باوجود ڈالر مالیت بڑھی، جس کے پیچھے مصنوعات کی ترکیب، قیمت یا منڈی کا فرق ہو سکتا ہے؛ جاری ڈیٹا اس وجہ کو حتمی طور پر متعین نہیں کرتا۔

ایک ماہ کے اعداد مالی سال کے پورے رجحان کا فیصلہ نہیں کرتے۔ آئندہ مہینوں میں عالمی قیمتیں، فصل کی دستیابی، معیار، لاجسٹکس اور منڈیوں کی طلب برآمدی نتیجے کو بدل سکتی ہیں۔ قابلِ نگرانی پہلو یہ ہوگا کہ غذائی برآمدات کی مجموعی بڑھوتری برقرار رہتی ہے یا نہیں اور چاول، گوشت، مچھلی، مصالحہ جات اور تیل دار بیجوں کی مقدار و مالیت کس سمت جاتی ہے۔ اردو ہیڈ لائنز اگلی سرکاری تجارتی اشاعت آنے پر تقابلی تصویر الگ رپورٹ میں پیش کرے گا۔