لاہور: پاکستان نے 2026 کے انوائرنمنٹل پرفارمنس انڈیکس (ای پی آئی) میں 22 درجے بہتری حاصل کرتے ہوئے 177 ممالک میں 157ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ 2024 کی درجہ بندی میں پاکستان 179ویں نمبر پر تھا۔ تازہ انڈیکس ییل سینٹر فار انوائرنمنٹل لا اینڈ پالیسی سے منسوب کیا گیا ہے اور اس میں مختلف ماحولیاتی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 2026 میں مجموعی ای پی آئی اسکور 29.03 رہا۔ انڈیکس 47 اشاریوں پر مبنی ہے جنہیں 12 ماحولیاتی موضوعات اور تین بڑے پالیسی اہداف، یعنی ماحولیاتی صحت، ایکوسسٹم کی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی، کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے کسی ملک کی پوزیشن صرف ایک شعبے کی کارکردگی نہیں بلکہ متعدد پیمانوں کے مجموعی نتیجے کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے باوجود ملک اب بھی فہرست کے نچلے حصے میں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی، پانی، حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی خطرات سمیت کئی شعبوں میں مسلسل کام درکار ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان کے لیے ایک اہم کمزور پہلو برقرار ہے۔ پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں سموگ اور فضائی معیار کے مسائل کے تناظر میں صوبائی حکام نے آلودگی کے خلاف نگرانی اور نفاذی اقدامات بڑھائے ہیں۔

ای پی آئی جیسے عالمی اشاریے پالیسی کی سمت اور طویل مدتی رجحان سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم مختلف برسوں کی رینکنگ کا تقابل کرتے وقت طریقہ کار، شامل ممالک اور اشاریوں میں ممکنہ تبدیلیوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ تازہ نتیجہ پاکستان کے لیے بہتری کی علامت ہے مگر اسے ماحولیاتی مسائل کے حل کی تکمیل نہیں سمجھا جا سکتا۔

ماحولیاتی ماہرین طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ بہتر فضائی معیار، صاف توانائی، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی موافقت کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مسلسل پالیسی، قابل پیمائش اہداف اور قابل اعتماد ڈیٹا ضروری ہیں۔ 2026 کی درجہ بندی اس پیش رفت کو عالمی پیمانے پر جانچنے کا ایک نیا حوالہ فراہم کرتی ہے۔