جکارتہ: انڈونیشیا میں جاری جنگلاتی آگ نومبر کے اوائل تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ بارشوں کا موسم معمول سے دیر سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ وزیر جنگلات راجہ جولی انتونی نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ طویل خشک سالی کے دوران زمین صاف کرنے کے لیے آگ کے استعمال سے گریز کیا جائے۔

رائٹرز کے مطابق انڈونیشیا اس وقت گزشتہ گیارہ برس کی شدید ترین جنگلاتی آگ سے نمٹ رہا ہے۔ موسمی حالات میں غیر معمولی شدت اور طویل خشک دور نے جنگلات اور زرعی زمین کو زیادہ آتش گیر بنا دیا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں آگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ حکام نے موجودہ صورتحال کو طاقتور ال نینو جیسے موسمی اثرات سے بھی جوڑا ہے۔

جنگلاتی آگ کا اثر صرف متاثرہ علاقوں تک محدود نہیں رہتا۔ بورنیو سمیت متعدد خطوں میں دھواں اور فضائی آلودگی شہری آبادی کے لیے سانس اور صحت کے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ دھند نما دھویں سے حد نگاہ بھی متاثر ہوتی ہے اور اسکولوں، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

انڈونیشیا میں ماضی میں پام آئل اور دیگر زرعی سرگرمیوں کے لیے زمین صاف کرنے کے دوران آگ لگانے کے واقعات بڑے پیمانے پر جنگلاتی آتشزدگی کا سبب بنتے رہے ہیں۔ حکومت نے اس طریقے پر پابندیوں اور نگرانی کے باوجود مقامی سطح پر آگ کے استعمال کو روکنے کے لیے مزید احتیاط کی اپیل کی ہے۔

وزیر جنگلات کے مطابق برسات کا موسم دیر سے آنے کی صورت میں آگ بجھانے کی کوششوں کو کئی مزید ہفتوں تک جاری رکھنا پڑ سکتا ہے۔ حکام آگ کی نگرانی، متاثرہ علاقوں میں زمینی کارروائی اور ضرورت کے مطابق فضائی وسائل استعمال کر رہے ہیں، تاہم خشک موسم میں دوبارہ آگ بھڑکنے کا امکان برقرار رہتا ہے۔

موجودہ بحران موسمیاتی خطرات اور زمین کے استعمال کے طریقوں کے باہمی اثر کو نمایاں کرتا ہے۔ حکام کی فوری ترجیح نئی آگ لگنے کے واقعات روکنا، موجودہ آگ پر قابو پانا اور دھویں سے متاثرہ آبادیوں کے لیے صحت اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانا ہے۔