پٹنہ: بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں شدید بارشوں اور دریاؤں میں بلند پانی کے باعث تقریباً 50 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی حکام کے مطابق بہار کے سات اہم دریا منگل کو خطرے کی مقررہ سطح سے اوپر بہہ رہے تھے، جس سے متعدد اضلاع میں آبادیوں، سڑکوں اور زرعی زمین کو نقصان پہنچا اور امدادی کارروائیاں وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔

بہار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد کے مطابق تقریباً 49 لاکھ سے 50 لاکھ افراد 15 اضلاع میں متاثر ہوئے ہیں۔ ان اضلاع میں پٹنہ، بھوجپور، سارن، ویشالی، بھاگلپور، بیگوسرائے، بکسر، سمستی پور، مونگیر، کٹیہار، لکھی سرائے، کھگڑیا، پورنیہ، مدھے پورہ اور ارریہ شامل ہیں۔ کئی دریا نیپال سے بہہ کر بہار میں داخل ہوتے ہیں، اس لیے بالائی علاقوں میں بارش بھی پانی کے بہاؤ پر اثر ڈالتی ہے۔

ریاستی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں 13 ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ کمیونٹی کچن چلائے جا رہے ہیں۔ امدادی اور نقل و حرکت کے کام کے لیے تقریباً 1,800 کشتیوں کی تعیناتی کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ خوراک، صاف پانی، ادویات اور دوسری بنیادی ضروریات متاثرہ خاندانوں تک پہنچانے کا عمل جاری ہے، جبکہ ریاستی اور قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ٹیمیں بھی مختلف اضلاع میں تعینات ہیں۔

وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کے مطابق 827,000 سے زیادہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کو فی خاندان 7,000 بھارتی روپے کی مالی امداد منتقل کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ فوری ریلیف کے ساتھ بحالی اور تعمیر نو پر بھی توجہ دی جائے گی۔ مقامی میڈیا نے سیلاب سے کم از کم 20 اموات کی اطلاع دی ہے، تاہم مختلف اوقات میں جاری ہونے والے اعداد میں تبدیلی ممکن ہے۔

بہار بھارت کی سب سے زیادہ سیلاب زدہ ریاستوں میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال مون سون، نیپال سے آنے والے دریاؤں اور نشیبی جغرافیہ کے باعث وسیع علاقے خطرے میں رہتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں فوری ترجیحات محفوظ پینے کا پانی، خوراک، طبی امداد، مویشیوں اور زرعی نقصان کا جائزہ اور پانی اترنے کے بعد بیماریوں کی روک تھام ہیں۔ وفاقی بھارتی حکومت نے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک ٹیم بھی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔