اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کو ہدایت کی ہے کہ بارش سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں اور صوبائی محکموں و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھا جائے۔ ہدایت جاری مون سون اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے تناظر میں دی گئی ہے۔

وزیراعظم نے یہ احکامات NDMA کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ملاقات کے دوران دیے۔ انہوں نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو رابطہ بہتر بنانے کی ہدایت کی تاکہ بارشوں کے دوران لنک روڈز اور پلوں پر ٹریفک کی روانی ممکن حد تک برقرار رکھی جا سکے اور متاثرہ علاقوں تک خوراک، ادویات اور دوسرے امدادی سامان کی ترسیل میں تاخیر نہ ہو۔

NDMA چیئرمین نے وزیراعظم کو جاری مون سون کے متوقع پیٹرن، شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کی مجموعی تیاری پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ اداروں نے مون سون کی زیادہ مؤثر نگرانی کے لیے پیشگی اقدامات کیے ہیں اور ہنگامی موسم کی صورت میں ریسکیو و ریلیف آپریشنز کے لیے ادارے تیار ہیں۔

حکومت کی ہدایت میں بین الادارہ جاتی رابطے پر خاص زور دیا گیا ہے کیونکہ بارش اور سیلاب کے دوران سڑکوں کی بندش، پلوں کو نقصان، مواصلاتی تعطل اور دور دراز آبادیوں تک رسائی امدادی کارروائیوں کی رفتار پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ وفاقی NDMA اور صوبائی PDMAs کے درمیان پیشگی معلومات، وسائل اور ذمہ داریوں کی تقسیم بروقت ردعمل کے لیے اہم رہتی ہے۔

مون سون سے متعلق خطرات ملک کے مختلف حصوں میں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ شہری علاقوں میں نکاسی آب اور اربن فلڈنگ، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ، جبکہ دریائی علاقوں میں پانی کی سطح بڑھنے کے خطرات الگ نوعیت کے انتظامات چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کی تازہ ہدایت کا عملی نتیجہ اس بات سے جانچا جائے گا کہ موسمی انتباہ کے بعد مقامی انتظامیہ کتنی تیزی سے خطرے والے علاقوں تک اطلاع، راستوں کی بحالی، انخلا اور امدادی سامان پہنچانے کے انتظامات کرتی ہے۔