پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے سیلاب اور پانی کی سطح کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے ToltHawk IoT Telemetry System متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد ممکنہ سیلابی خطرات کی بروقت نشاندہی اور متاثرہ آبادیوں تک پیشگی وارننگ پہنچانے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے نظام کے افتتاح اور متعلقہ اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔
نئے نظام کے تحت نصب آلات پانی کی سطح، سیلاب کے امکانات اور متعلقہ ماحولیاتی حالات کے بارے میں مسلسل ڈیٹا فراہم کریں گے۔ حکام کے مطابق ٹیلی میٹری آلات سوات کے دہری پل، نوشہرہ پل اور بنوں میں کرم ریور کوہاٹ روڈ پل پر نصب اور فعال کیے جا چکے ہیں۔ ان مقامات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی لائیو اسٹریمنگ اور اسے فیصلہ سازی کے معاون نظام سے منسلک کرنے کا عمل بھی مکمل کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کا مقصد صرف آفت کے بعد امدادی سرگرمیوں پر انحصار کرنے کے بجائے پیشگی تیاری کو مضبوط کرنا ہے۔ خیبر پختونخوا گزشتہ برسوں میں بڑے سیلاب، شدید بارشوں، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، خشک سالی، گرمی کی لہروں اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کا سامنا کر چکا ہے۔ وزیر آبپاشی کے مطابق 2022 کے سیلاب سے صوبے میں 20 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے تھے۔
حکومت نے 15 اضلاع کے لیے جامع فلڈ پروٹیکشن پلان کی منظوری کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ سیلاب سے بچاؤ کے انفراسٹرکچر، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور آبپاشی کے نظام میں بہتری کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ چشما رائٹ بینک کینال منصوبے کے ذریعے ڈیرہ اسماعیل خان میں تقریباً 286 ہزار ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے کا ہدف بھی بیان کیا گیا ہے۔
ٹیلی میٹری نظام کی افادیت اس بات سے جڑی ہوگی کہ حقیقی وقت میں موصول ہونے والی معلومات کو کتنی تیزی سے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور خطرے سے دوچار آبادیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ موسمیاتی شدت میں اضافے کے تناظر میں درست پیمائش، قابل اعتماد مواصلاتی رابطے اور مقامی سطح پر واضح ہنگامی طریقہ کار سیلاب سے جانی و مالی نقصان کم کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
