لاہور: پنجاب حکومت نے موسمِ سموگ سے قبل شہری صفائی کے طریقہ کار میں نئی پابندیاں نافذ کرتے ہوئے تمام اضلاع کو سڑکوں کی صفائی کے لیے wet-mechanical طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ خشک جھاڑو یا ایسے طریقوں سے اڑنے والی گرد کو کم کیا جا سکے۔ Business Recorder کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت اجلاس میں ممکنہ سموگ، Suthra Punjab پروگرام اور ضلعی صفائی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سڑکوں کی صفائی ایسے مکینیکل طریقوں سے کی جائے جن میں پانی کا استعمال ہو اور صفائی کے دوران دھول اڑنے سے بچایا جائے۔ وزیر بلدیات نے کچرا جلانے کو anti-smog directives کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی علاقے میں waste burning کی شکایت سامنے آنے پر متعلقہ مقامی افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خاص طور پر تحصیل سطح کے ذمہ دار اہلکاروں کو جواب دہ بنانے کی ہدایت کی۔
حکومت نے صفائی کے ٹھیکیداروں اور ضلعی انتظامی ڈھانچے کی نگرانی سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر Field Monitoring Officer کو 24 beats کی ذمہ داری دی گئی ہے اور انہیں روزانہ کم از کم 12 beats کا دورہ کرنا ہوگا۔ ان کی کارکردگی کے لیے third-party validation کا طریقہ بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ فیلڈ رپورٹس اور عملی صفائی میں فرق کی جانچ کی جا سکے۔
Suthra Punjab Authority کے ڈائریکٹر جنرل عمر جاوید کو ضلعی managing directors کی کارکردگی انفرادی طور پر review کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ مختلف اضلاع کے سربراہان کو مرحلہ وار اتھارٹی کے دفتر طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں Suthra Punjab کے focal person، special secretaries اور مختلف اضلاع کے انتظامی افسران نے شرکت کی یا ویڈیو لنک سے بریفنگ دی۔
پنجاب میں موسمِ سرما کے دوران سموگ میں گاڑیوں، صنعت، فصلوں یا کچرے کے جلنے اور فضا میں گرد سمیت متعدد عوامل حصہ ڈالتے ہیں۔ موجودہ اقدام خاص طور پر شہری صفائی سے پیدا ہونے والی گرد اور waste burning کے انتظامی پہلو پر مرکوز ہے؛ اسے سموگ کے تمام ذرائع کا واحد حل نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ ضلعی سطح پر صفائی کے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جو particulate pollution میں غیر ضروری اضافہ نہ کریں۔
عملدرآمد کا اصل امتحان اضلاع میں wet-mechanical equipment کی دستیابی، پانی کے مؤثر استعمال، contractor supervision اور خلاف ورزیوں پر مستقل enforcement ہوگا۔ موجودہ اجلاس میں صوبہ بھر کے لیے حکم جاری کیا گیا ہے، لیکن رپورٹ میں اضافی مشینری کی تعداد، مخصوص بجٹ یا ہر ضلع کے لیے مکمل نفاذ کی آخری تاریخ بیان نہیں کی گئی۔
