لاہور: پنجاب لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے سموگ کے ممکنہ سیزن سے پہلے صوبے بھر میں سڑکوں کی صفائی کے لیے wet-mechanical cleaning، یعنی پانی کے ساتھ مشینی صفائی، لازمی قرار دے دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد روڈ ڈسٹ کو کم کرنا، صفائی کے دوران ہوا میں مٹی اڑنے سے روکنا اور شہری علاقوں میں سموگ کے معاون عوامل پر قابو پانا بتایا گیا ہے۔
Business Recorder کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت 15 ستمبر کو اجلاس میں سموگ کے خدشات اور ستھرا پنجاب پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ سڑکوں کی صفائی صرف ایسے مشینی طریقوں سے کی جائے جن میں پانی استعمال ہو، تاکہ خشک صفائی کے دوران گردوغبار فضا میں نہ پھیلے۔
وزیر بلدیات نے کوڑا کرکٹ جلانے کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہدایت دی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں کچرا جلانے کی شکایت سامنے آتی ہے تو متعلقہ تحصیل منیجر کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ روڈ کلیننگ کے مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کو بھی انتظامی جواب دہی سے جوڑا گیا ہے۔
فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام میں بھی روزانہ کارکردگی کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہر Field Monitoring Officer کو 24 بیٹس کی ذمہ داری دی گئی ہے اور کم از کم 12 بیٹس روزانہ وزٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان دوروں اور رپورٹ شدہ کارکردگی کی تیسرے فریق سے تصدیق بھی کرائی جائے گی تاکہ صرف کاغذی رپورٹنگ کے بجائے زمینی نتائج کو جانچا جا سکے۔
اجلاس میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ضلع وار منیجنگ ڈائریکٹرز کی کارکردگی الگ الگ دیکھنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ ضلعی ایجنسیوں کے سربراہان کو مرحلہ وار اتھارٹی کے دفتر طلب کر کے صفائی، کنٹریکٹر نگرانی اور سموگ مخالف اقدامات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب میں سردیوں سے پہلے فضائی آلودگی اور سموگ ایک بار پھر اہم انتظامی مسئلہ بنتے ہیں۔ سڑکوں سے اٹھنے والی گرد، کچرا جلانا، ٹریفک اور دیگر اخراج اس مسئلے میں مختلف سطحوں پر حصہ ڈال سکتے ہیں۔ موجودہ ہدایت خاص طور پر شہری صفائی اور روڈ ڈسٹ کے انتظام پر مرکوز ہے؛ اسے صوبے کی مکمل سموگ پالیسی کا متبادل نہیں بلکہ ایک مخصوص حفاظتی اقدام سمجھا جانا چاہیے۔
