پنجاب کے وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر نے صوبائی محکمہ توانائی کو سرکاری سکولوں، کالجوں اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی سولرائزیشن کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق محکمانہ جائزہ اجلاس میں توانائی کے منصوبوں کے ساتھ سرکاری اداروں میں برقی تنصیبات کی حفاظت اور معائنہ کے نظام کو بھی زیر بحث لایا گیا۔
وزیر توانائی نے کہا کہ توانائی کی دستیابی اور برقی حفاظت کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے، خصوصاً ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں جہاں بجلی کے نظام میں خرابی کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکام کو برقی تنصیبات کی انسپیکشن، مانیٹرنگ اور سیفٹی میکانزم بہتر بنانے کی ہدایت کی تاکہ حادثات کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب فری سولر پینل انیشی ایٹو کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام تکمیل کے قریب ہے اور حتمی تصدیق کا مرحلہ جاری ہے۔ سرکاری ہائر سیکنڈری سکولوں، کالجوں اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی سولرائزیشن میں گرڈ کنیکٹیویٹی اور میٹرنگ سے متعلق پیش رفت بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل رہی۔
ملک فیصل ایوب کھوکھر کے مطابق سولرائزیشن سے سرکاری اداروں کے بجلی اخراجات کم کرنے، صاف توانائی کے استعمال کو بڑھانے اور اداروں کی آپریشنل پائیداری بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے منصوبوں میں معیار، شفافیت، بروقت تکمیل اور طویل مدتی آپریشنل کارکردگی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں سیکرٹری توانائی کے ماتحت ’انرجی سیکٹر پالیسی اینڈ امپلی مینٹیشن یونٹ‘ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی، جس کا مقصد پالیسی سازی، مارکیٹ انٹیلی جنس، ٹیرف حکمت عملی اور توانائی منتقلی کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا بتایا گیا۔ برقی لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک کو زیادہ شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے، لائسنس یافتہ کنٹریکٹرز کو کمرشل و صنعتی انسپیکشن میں شامل کرنے، تھرڈ پارٹی تکنیکی آڈٹ اور اپیل کے نظام کی تجاویز بھی دیکھی گئیں۔ دستیاب رپورٹ میں سولرائزیشن کے تمام منصوبوں کی مجموعی لاگت یا مکمل ہونے کی ایک حتمی تاریخ نہیں دی گئی؛ اس لیے فی الحال خبر کا مصدقہ دائرہ محکمانہ ہدایات اور زیر جائزہ پیش رفت تک محدود ہے۔
