اسلام آباد میں حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری سے متعلق تقریباً 80 کروڑ ڈالر کے دیرینہ بقایاجات کی وصولی کے لیے اتصالات کے خلاف بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کرنے پر غور شروع کر رکھا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری کے مشترکہ اجلاس میں زیر بحث آیا، جہاں بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل آفس کو وفاقی کابینہ کے فیصلے پر جلد عمل درآمد کے لیے کہا گیا ہے۔
نجکاری ڈویژن کی بریفنگ کے مطابق حکومت نے 2005 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول متحدہ عرب امارات کی اتصالات انٹرنیشنل پاکستان کو 2.59 ارب ڈالر میں فروخت کیا تھا۔ حکومت کو اس رقم میں سے 1.76 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ تقریباً 80 کروڑ ڈالر کی ادائیگی تاحال باقی ہے۔ بقایا رقم کا تعلق پی ٹی سی ایل کی جائیدادوں کی منتقلی سے جوڑا گیا تھا۔
سرکاری بریفنگ کے مطابق مجموعی 3,246 جائیدادوں میں سے تقریباً 99 فیصد منتقل کی جا چکی ہیں، تاہم 32 جائیدادیں اب بھی منتقل نہیں ہو سکیں۔ اتصالات، جو اب ای اینڈ کے نام سے جانی جاتی ہے، انہی نامکمل منتقلیوں کی بنیاد پر بقایا رقم روکے ہوئے ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معاملہ طویل عرصے سے حل طلب ہے اور متعدد کمیٹیوں اور مذاکرات کے باوجود حتمی تصفیہ نہیں ہو سکا۔
جولائی 2026 میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے تنازع کی تقریباً دو دہائیوں پر محیط تاریخ کو دیکھتے ہوئے فروخت کے معاہدے میں موجود ثالثی کی شق کے تحت بین الاقوامی کارروائی پر غور کی سفارش کی۔ سفارش میں اصل بقایا رقم کے ساتھ 2008 سے موقع لاگت اور قابل اطلاق ہرجانے کی وصولی کا امکان بھی شامل کیا گیا ہے۔
تاہم بین الاقوامی ثالثی ابھی شروع ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اٹارنی جنرل کو پہلے پاکستان کے مقدمے کی قانونی مضبوطی، کامیابی کے امکانات اور ممکنہ قانونی اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ بریفنگ کے مطابق اگر قانونی بنیاد مناسب سمجھی گئی تو اتصالات کو نوٹس آف انٹینٹ جاری کرنے سے قبل وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو حکومت کی جانب سے قانونی راستہ جانچنے اور تیاری کرنے کا مرحلہ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی حتمی عدالتی یا ثالثی فیصلے کے طور پر۔
