کراچی میں سندھ کابینہ نے گندم کی سرکاری اجرا قیمت میں 500 روپے فی 40 کلو کمی کرتے ہوئے نئی قیمت 4,500 روپے مقرر کر دی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد کیا گیا اور فلور ملز کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس کمی کا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے۔
کابینہ اجلاس کے بعد سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سرکاری نرخ میں کمی سے آٹے کی قیمت تقریباً 15 روپے فی کلو کم ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق نئی قیمت کو دوسرے صوبوں کے نرخوں کے قریب لانے اور مارکیٹ کی موجودہ صورتحال سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم صارفین کو عملی طور پر کتنی اور کب تک کمی ملتی ہے، اس کا انحصار ملوں، تھوک و پرچون مارکیٹ اور سرکاری نگرانی پر ہوگا۔
اجلاس میں دیگر انتظامی اور ترقیاتی فیصلے بھی کیے گئے۔ کابینہ نے سندھ چیریٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن رولز 2026 کے مسودے کی منظوری دی، جبکہ کچی آبادیوں میں غیر مجاز ریگولرائزیشن اور لیز کے معاملات کے حل کے لیے صوبائی وزرا اور مشیر پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے کراچی میں ٹریفک مینجمنٹ اتھارٹی اور اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے قیام کے لیے بھی قانون سازی کی تیاری کا عندیہ دیا۔
صوبائی کابینہ نے ملیر کی دیہہ بکران اور پپری میں پاکستان اسٹیل ملز سے منسلک 1,275 ایکڑ سرکاری زمین کو کراچی انڈسٹریل پارک کے لیے سرکاری سطح کے انتظام کے تحت استعمال کرنے کی کارروائی کی منظوری بھی دی۔ سرکاری بیان کے مطابق بعض موجودہ الاٹمنٹس کے دوبارہ جائزے کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا، جبکہ پاکستان اسٹیل کے اصل پلانٹ کے لیے مختص 700 ایکڑ رقبہ بدستور اسٹیل مل کی بحالی یا نئے پلانٹ کے لیے محفوظ رہے گا۔
کابینہ نے 2026-27 کی گنے کی کرشنگ سیزن کے آغاز کے لیے 15 نومبر کی تاریخ مقرر کرنے اور سپورٹ پرائس طے کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی ہدایت بھی کی۔ گندم کی اجرا قیمت میں کمی اس اجلاس کا فوری طور پر صارفین سے متعلق نمایاں فیصلہ ہے، مگر آٹے کی خوردہ قیمت پر اس کے مکمل اثر کا اندازہ مارکیٹ میں نئی سرکاری گندم کی فراہمی اور قیمتوں کی نگرانی کے بعد ہی واضح ہوگا۔
