وفاقی حکومت نے موسمِ سرما کے دوران ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے اور بالخصوص کھانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم کے مطابق حکومت دستیاب مقامی پیداوار، درآمدی توانائی اور نظام کی انتظامی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے سردیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ کھانا پکانے کے اہم اوقات میں گیس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے حکومت اپنی پوری کوشش کرے گی۔ سردیوں میں درجہ حرارت گرنے کے ساتھ گھریلو شعبے میں گیس کی طلب بڑھ جاتی ہے، جبکہ ملک کی مقامی گیس پیداوار طویل عرصے سے دباؤ کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے ہر سال موسمِ سرما میں مختلف علاقوں میں کم پریشر اور لوڈ مینجمنٹ کی شکایات سامنے آتی ہیں۔
وزیر نے ملک کی توانائی ضروریات کے وسیع تر تناظر میں کہا کہ پاکستان کو توانائی تحفظ کا ایک مضبوط ڈھانچہ تیار کرنا ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مقامی وسائل کی تلاش، درآمدی ایندھن کے بہتر انتظام، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور توانائی کے مختلف ذرائع کے امتزاج کے ذریعے رسد کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ان اقدامات کے عملی نتائج کا انحصار دستیاب گیس، درآمدی قیمتوں اور تقسیم کار کمپنیوں کی آپریشنل کارکردگی پر ہوگا۔
پاکستان میں قدرتی گیس بجلی، صنعت، کھاد، تجارتی سرگرمیوں اور گھریلو استعمال سمیت کئی شعبوں کے لیے اہم ایندھن ہے۔ سردیوں میں گھریلو طلب بڑھنے سے صنعت اور دیگر صارفین کے لیے دستیاب مقدار پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ حکومت کو اس دوران گھریلو ضرورت، صنعتی پیداوار اور مالی لاگت کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔
حکام کی موجودہ یقین دہانی آئندہ موسمِ سرما کے لیے فراہمی کے انتظام سے متعلق پالیسی مؤقف ہے، نہ کہ ہر علاقے میں بلا تعطل گیس کی ضمانت۔ مختلف شہروں اور محلوں میں فراہمی کا انحصار مقامی نیٹ ورک، دباؤ اور طلب پر بھی رہتا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ترجیحی اوقات میں گھریلو صارفین کو سہولت دینے کے لیے دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
توانائی شعبے میں طویل مدتی چیلنج مقامی ذخائر میں کمی اور درآمدی ایندھن کی قیمت ہے۔ اس لیے فوری موسمِ سرما کے انتظام کے ساتھ حکومت توانائی تحفظ کے نئے ڈھانچے، مقامی پیداوار میں اضافے اور رسد کے متبادل ذرائع پر بھی کام کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کی کامیابی کا اندازہ آنے والے مہینوں میں حقیقی رسد، قیمت اور صارفین کو ملنے والی سروس سے کیا جا سکے گا۔
