سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے سندھ اور بلوچستان میں گھریلو صارفین کے لیے موسمِ سرما کا نیا گیس فراہمی شیڈول جاری کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق سردیوں میں طلب اور دستیاب گیس کے انتظام کے لیے گھریلو صارفین کو روزانہ تین مقررہ اوقات میں گیس فراہم کی جائے گی اور ان اوقات کو بنیادی طور پر ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کی تیاری کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔

ایس ایس جی سی کے ترجمان کے مطابق شیڈول فوری طور پر نافذ العمل ہے اور سندھ و بلوچستان کے گھریلو صارفین اس کے دائرے میں آئیں گے۔ اعلان کے مطابق صبح ناشتے کے لیے گیس ساڑھے چھ بجے سے نو بجے تک، دوپہر کے کھانے کے لیے بارہ بجے سے ڈھائی بجے تک اور رات کے کھانے کے لیے شام چھ بجے سے نو بجے تک دستیاب ہوگی۔ یوں چوبیس گھنٹوں کے دوران مقررہ فراہمی کے اوقات مجموعی طور پر آٹھ گھنٹے بنتے ہیں۔

کمپنی نے اپنے اعلان میں کہا کہ موسمِ سرما کے دوران گیس لوڈ کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے گھریلو صارفین کو کھانے کے اوقات میں ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایس ایس جی سی نے صارفین کو انہی مقررہ اوقات کو سامنے رکھتے ہوئے گھریلو ضروریات، خصوصاً کھانا پکانے، کی منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

یہ اعلان کراچی سمیت کمپنی کے نیٹ ورک کے مختلف علاقوں میں گیس کے کم دباؤ اور فراہمی میں تعطل کی شکایات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ڈان کے مطابق منگل کو کراچی کے متعدد علاقوں میں صارفین نے شکایت کی کہ بعض مقامات پر پہلے سے بتائے جانے والے ناشتے کے اوقات میں بھی گیس دستیاب نہیں تھی یا دباؤ بہت کم تھا۔ سوشل میڈیا پر مختلف اوقات پر مشتمل شیڈول گردش کرنے سے بھی صارفین میں ابہام پیدا ہوا تھا، جس کے بعد کمپنی نے باضابطہ شیڈول واضح کیا۔

ایس ایس جی سی کئی برس سے اپنے نیٹ ورک میں گھریلو صارفین کو چوبیس گھنٹے مسلسل گیس فراہم نہیں کر رہی۔ سردیوں میں درجہ حرارت کم ہونے کے ساتھ گھریلو طلب بڑھنے سے گیس نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جبکہ کمپنی مختلف اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے دستیاب مقدار تقسیم کرتی رہی ہے۔ نئے اعلان کی اہمیت یہ ہے کہ کمپنی نے سندھ اور بلوچستان کے لیے تین مخصوص روزانہ سلاٹس کو باقاعدہ طور پر بیان کیا ہے۔

تاہم شیڈول کا اعلان اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر علاقے میں یکساں دباؤ کے ساتھ گیس دستیاب ہوگی۔ مقامی نیٹ ورک، لائن پریشر اور طلب کی صورتحال کے باعث عملی فراہمی میں فرق آ سکتا ہے۔ صارفین کی حالیہ شکایات بھی اسی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ کمپنی نے شیڈول کو طلب کے انتظام کا اقدام قرار دیا ہے، جبکہ اس کی عملی کامیابی کا اندازہ مختلف شہروں اور علاقوں میں مقررہ اوقات کے دوران فراہمی کی صورتحال سے ہوگا۔