اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے پیٹرول 5.45 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 3.68 روپے فی لیٹر سستا کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 4 نومبر 2026 سے کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 369.06 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 391.52 روپے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔

قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ حکومت کے مطابق صارفین تک ریلیف منتقل کرنے کے لیے موجودہ قیمتوں کے ڈھانچے میں تبدیلی کی گئی۔ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پاکستان میں ٹرانسپورٹ، زرعی سرگرمیوں اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں تبدیلی مہنگائی کے عمومی رجحان کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر کے قریب ٹیکس اور ڈیوٹیز جبکہ ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ حکومت نے اس سے قبل ریفائنری شعبے کے ساتھ ایک عارضی انتظام کا بھی اعلان کیا تھا جس کے تحت ریفائنریز 30 روز کے لیے پیٹرولیم لیوی کے بوجھ میں حصہ ڈالیں گی۔ حکومتی موقف کے مطابق اس انتظام کا مقصد صارفین کے لیے قیمت میں مزید گنجائش پیدا کرنا ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت مائع پیٹرولیم گیس، یعنی ایل پی جی، کے لیے بھی اسی نوعیت کے ممکنہ ریلیف انتظام پر کام کر رہی ہے۔ تاہم ایل پی جی سے متعلق کسی حتمی قیمت یا طریقہ کار کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا اثر مسافر اور مال بردار ٹرانسپورٹ سے لے کر زرعی مشینری اور صنعتی لاگت تک متعدد شعبوں پر پڑتا ہے۔ نئی قیمتوں کے بعد فوری طور پر پیٹرول اور ڈیزل استعمال کرنے والے صارفین کو فی لیٹر براہ راست کمی ملے گی، جبکہ وسیع تر معاشی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری شعبے کم ہونے والی لاگت کو کس حد تک اپنی قیمتوں اور کرایوں میں منتقل کرتے ہیں۔