پاکستان ریلوے نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ مالی گوشواروں کا آڈٹ انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز، یعنی IFRS، کے مطابق کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ادارے کی مالی شفافیت، احتساب، داخلی کنٹرول اور گورننس کو مضبوط بنانا ہے۔

بزنس ریکارڈر کی 4 نومبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے مالی سال 2025-26 کے مالی گوشواروں کے آڈٹ کے لیے بین الاقوامی شہرت رکھنے والی چارٹرڈ اکاؤنٹنسی فرم کی خدمات حاصل کرے گی۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ فرم کا انتخاب میرٹ اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ خریداری کا پورا عمل e-PADS پورٹل کے ذریعے انجام دینے کا منصوبہ ہے۔

حنیف عباسی کے مطابق یہ اقدام پاکستان ریلوے میں مالی نظم و ضبط بہتر بنانے اور سرکاری ملکیتی اداروں سے متعلق SOE Act 2023 کے تقاضوں کے مطابق ادارہ جاتی شفافیت بڑھانے کی وسیع اصلاحاتی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد آڈٹ رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس کی سفارشات اور نتائج کی روشنی میں ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔

IFRS دنیا بھر میں کمپنیوں اور اداروں کے مالی گوشواروں کو زیادہ قابلِ موازنہ اور واضح بنانے کے لیے استعمال ہونے والے بین الاقوامی معیارات ہیں۔ پاکستان ریلوے جیسے بڑے سرکاری ادارے کے لیے ان معیارات کے تحت مالی رپورٹنگ اور آڈٹ کا مقصد آمدن، اخراجات، اثاثوں، واجبات اور مالی ذمہ داریوں کی تصویر کو زیادہ منظم انداز میں پیش کرنا ہے۔ تاہم آڈٹ کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے اور اس مرحلے پر کسی مالی بے ضابطگی یا مخصوص نتیجے کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ آزاد آڈٹ کے بعد مالی احتساب کے لیے سخت فیصلے کیے جا سکتے ہیں اور ادارے کے ہر روپے کا حساب یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے اور مالی جوابدہی کو حکومتی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ یہ حکومت کا بیان اور اصلاحاتی ہدف ہے؛ اس کی عملی کامیابی کا جائزہ آڈٹ مکمل ہونے اور بعد کی کارروائی سامنے آنے پر ممکن ہوگا۔

حنیف عباسی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف پاکستان ریلوے کی کارکردگی اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔ پاکستان ریلوے طویل عرصے سے مالی خسارے، آپریشنل اخراجات، اثاثوں کے انتظام اور سروس کے معیار جیسے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے، اس لیے بین الاقوامی رپورٹنگ معیار کے تحت آڈٹ کو مالی نظم و نسق بہتر بنانے کی سمت ایک ادارہ جاتی قدم سمجھا جا رہا ہے۔

اگلا اہم مرحلہ آڈٹ فرم کے شفاف انتخاب، مالی گوشواروں کی تیاری اور آزاد آڈٹ رپورٹ کی تکمیل ہوگا۔ اس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ IFRS فریم ورک پاکستان ریلوے کی مالی رپورٹنگ میں کن خامیوں یا اصلاحی ضرورتوں کی نشاندہی کرتا ہے اور حکومت ان نتائج پر کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔